سلسلہ احمدیہ — Page 78
78 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پہلا دورہ مغربی افریقہ جب بر صغیر کی حدود سے باہر احمدیت کی تبلیغ کا آغاز ہوا تو مغربی افریقہ ان خطوں میں سے تھا جہاں کے لوگوں نے اپنی سعادت کا ثبوت دیتے ہوئے بڑی تعداد میں حق کو قبول کرنا شروع کیا اور یہاں پر بڑی بڑی جماعتیں قائم ہونے لگیں۔اب تک مغربی افریقہ کے چند احمدی احباب مرکز آکر خلیفہ وقت کی زیارت کر چکے تھے اور بعض نے یہاں پر رہ کر کچھ سال دینی تعلیم بھی حاصل کی تھی لیکن ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی خلیفہ نے افریقہ کا دورہ نہیں کیا تھا۔یہاں کے احمدیوں کی تربیت اور ان کا اخلاص اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ خلیفہ وقت افریقہ کا دورہ کریں اور ان کی روحانی اولا د کو ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو۔پہلے ۱۹۶۹ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دورہ مغربی افریقہ کا پروگرام بنایا گیامگر بعض وجوہات کی بنا پر اس سال یہ دورہ نہیں ہو سکا۔اس القوام سے وہاں کے احمدی احباب کو بہت صدمہ ہوا۔وہاں کے ایک احمدی بزرگ نے حضرت خلیفۃ ایج الثالث کی خدمت میں تحریر کیا کہ مجھے ساری عمر سے یہ حسرت تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی زیارت ہو جائے لیکن ان کا وصال ہو گیا اور میں انکی زیارت نہ کر سکا۔ان سے مل کر برکت نہ حاصل کر سکا۔اب خلافت ثالثہ میں یہ امید بندھی تھی کہ یہ موقع ملے گا اور میں آپ سے ملاقات کروں گا لیکن اب اس ایک سال کے التواء سے دل میں یہ وسوسہ اُٹھتا ہے کہ کہیں میں اس دوران دنیا سے رخصت نہ ہو جاؤں اور یہ حسرت میرے دل میں ہی رہے کہ جماعت احمدیہ کے امام کی زیارت کرسکوں۔(۱) اللہ تعالیٰ نے مغربی افریقہ کے احمدیوں کی دعائیں سنیں اور ۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مغربی افریقہ کے دورہ پر جانے کا فیصلہ فرمایا۔اور اس پروگرام میں نائیجیریا ، غانا، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، گیمبیا اور سیرالیون کا دورہ شامل تھا۔۳/ اپریل ۱۹۷۰ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے میں انشاء اللہ تعالیٰ کل صبح مغربی افریقہ کے دورہ پر روانہ ہوں گا۔ربوہ اور آپ دوستوں کی اس عارضی جدائی سے