سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 80 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 80

80 پڑھ کر سنائی۔اس کے بعد حضور نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے۔انشاء اللہ تعالیٰ میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے سب کو دعاؤں میں یا درکھوں گا۔آپ سے بھی درخواست ہے کہ آپ مجھے بھی اور میرے ہمسفر ساتھیوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔دعا تو ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت اقوامِ عالم کے دلوں میں بیٹھے اور اسلام دنیا میں غالب آئے۔خدا کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ہی یہ نظارہ دیکھ لیں کہ فی الواقعہ اسلام دنیا میں غالب آ گیا ہے۔“ ان مختصر ارشادات کے بعد حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے۔ساتھ ہی مسجد میں موجود ہزاروں احباب کے ہاتھ دعا کے لئے اُٹھ گئے۔یہ اجتماعی دعا ایک خاص شان کی حامل تھی۔احباب نے اس قدر درد و الحاح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگیں کہ دیر تک مسجد ہچکیوں اور سسکیوں سے گونجتی رہی۔دعا کے بعد حضور کی زیر ہدایت مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے نعرے لگوائے۔صبح کو فجر کی نماز کے بعد احباب کثیر تعداد میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کو الوداع کہنے کے لئے دورویہ کھڑے تھے۔سوا چھ بجے حضور گاڑی میں سوار ہونے کے لئے قصر خلافت سے باہر تشریف لائے۔روانہ ہونے سے قبل حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب اور مکرم حضرت عبدالرحمن صاحب فاضل سے معانقہ فرمایا اور پھر قافلہ کے ہمراہ لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔اس موقع پر جماعت احمدیہ کی طرف سے بکروں کی قربانی کی گئی۔(۲) لا ہور میں حضور کا قیام مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر تھا۔لاہور کے علاوہ قریب کے اضلاع کے احباب بھی اپنے امام کو الوداع کہنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔وہاں پر حضور نے مختصر خطاب کرتے ہوئے موجودہ زمانے کے حالات بیان کرنے کے بعد احباب کو ان ایام میں خصوصیت سے دعائیں کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور فرمایا کہ ہمارا ہتھیار دعا ہی ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اسلام کی فتح اور اس کے غلبہ کے لئے دعائیں کرنے میں لگے رہیں۔اور اپنے اس فرض میں کبھی کو تاہی نہ کریں۔اس کے بعد حضور نے دعا کرائی۔دعا کے بعد حضور لاہور کے ایئر پورٹ تشریف لے گئے۔وہاں پر حضور نے دوستوں سے مصافحہ فرمایا۔اس خیال سے کہ ہم وقت کی تنگی کے باعث مصافحے سے