سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 67 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 67

67 میرا اپنا ذاتی کوئی علم نہیں۔(۲۲) جلسہ کے بعد احباب جماعت نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔۳۱ جولائی کی صبح کو حضرت خلیفہ امسیح الثالث گلاسکو کے لئے روانہ ہو گئے۔راستے میں حضور نے رات کو سکاچ کارنر میں قیام فرمایا۔اگلے روز آپ نے اپنا ایک تازہ رؤیا سنایا اور اس رؤیا کو آپ نے ۱۴اگست کے خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں بیان کیا:۔” میری ایک رؤیا کا تعلق اسلام کی ترقی سے ہے۔میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ایک شخص جس کا نام خالد ہے کہتا ہے کہ آپ نام رکھ دیں۔لیکن یہ یاد نہیں رہا کہ وہ کسی بچے کا نام رکھوانا چاہتا ہے یا کسی بڑے کا یا اپنا نام بدلوانا چاہتا ہے۔میں نے کہا کہ میں طارق نام رکھتا ہوں۔پھر میں نے کہا کہ طارق نام ہی نہیں دعا بھی ہے۔اور یہ دعا بہت کرنی چاہئے۔اس خواب کی مجھے یہ تفہیم ہوئی ہے کہ طارق رات کے وقت آنے والے کو کہتے ہیں۔رات کا وقت ملائکہ کا نزول بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو صبح صادق کے ظہور سے تعبیر کیا ہے۔اور طارق کے معنی روشن اور صبح کے وقت طلوع ہونے والے ستارے کے بھی ہیں۔اور یہ ستارہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ رات گزرگئی ہے اور دن چڑھنے والا ہے۔پس اس خواب کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی اقوام جو بظاہر مہذب کہلاتی ہیں لیکن در حقیقت انتہائی غیر مہذب اور گندی زندگی بسر کر رہی ہیں اور بظاہر اسلام کی طرف ان کی توجہ من نظر نہیں آرہی۔دعا کے ذریعہ ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔عقلی دلائل یہ سنے کو تیار نہیں ان کو تو دعا ہی خدا تعالیٰ کی طرف لاسکتی ہے۔(۲۳) اور اگلے روز شام کو آپ گلاسکو پہنچے۔آپ نے گلاسکو میں قیام کے دوران احباب جماعت سے ملاقات کے علاوہ ایک استقبالیہ میں شرکت کی اور پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اور آپ یہاں سے ایڈنبرا بھی تشریف لے گئے۔اب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا تھا۔تقریباً ڈیڑھ ماہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آپ ۲۱ راگست ۱۹۶۷ء کو واپس کراچی پہنچے۔اس روز مطلع ابر آلود تھا مگر بہت