سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 66 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 66

66 آپ سب جانتے ہیں کہ ۸ / نومبر ۱۹۶۵ء کو جماعت پر کیا قیامت گزری۔وہ جو ہمارا پیارا تھا۔جس نے ۵۲ سال ہماری تربیت کی تھی۔ہمارے لئے دکھ اُٹھانے والا ، ہماری خاطر راتوں کو جاگنے والا ، جس نے ہمارے لئے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیاں دی تھیں۔جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے رنگ میں ہم میں قائم کیا تھا۔وہ الہی منشاء کے مطابق اپنے محبوب اللہ کے پاس بلا لیا گیا۔اور جماعت کے ہر فرد نے یہ سمجھا کہ ہمارے سہارے ٹوٹ گئے ہیں۔اور ہر دل نے یہ بھی یقین کر لیا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا سہارا نہیں ٹوٹا اور نہیں ٹوٹ سکتا۔پھر حضور نے فرمایا:۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال سے قبل مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ کسی معاملہ میں سارا خاندان یک جہتی کا مظاہرہ کرے گا۔اس خواب کی کسی حد تک تعبیر مجھے معلوم ہو گئی تھی لیکن پوری تعبیر اس وقت معلوم ہوئی جب انتخاب خلافت ہوا۔انتخاب سے قبل خاندان مسیح موعود کے جو ممبر انتخاب میں حسب قواعد حصہ لے سکتے تھے ان سب نے فیصلہ کیا کہ ہم انتخاب کے وقت آخر میں سب سے پیچھے بیٹھیں گے اور خدا تعالیٰ ساری جماعت میں سے جس کو بھی خلیفہ بنائے گا اسے متفقہ طور پر قبول کر لیں گے اور اس کی پوری اطاعت کریں گے۔پھر انتخاب کا وقت آیا میں اپنی کیفیت میں تھا۔بعض باتوں کا مجھے علم بھی نہیں ہوا۔جب انتخاب ہو گیا اور کسی شخص نے مجھے آ کر کہا کہ اٹھئے آپ کا انتخاب ہو گیا ہے تو پھر مجھے علم ہوا۔یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ایک آدمی جسے اس وقت جماعت کوئی بہت بڑا بزرگ یا عالم یا بڑا آدمی نہ بجھتی تھی خدا تعالیٰ نے اسے اٹھایا اور کرسی خلافت پر بٹھا دیا۔اگر بندوں کے اختیار میں ہوتا تو جماعت جسے بزرگ سمجھتی اسے بٹھا دیتی لیکن خدا نے کہا کہ آج تمہاری نہیں چلے گی بلکہ میں ایک شخص کو جو تمہاری نظر میں کمتر اور نا کارہ ہے اٹھاؤں گا۔یہ اسی کی طاقت ہے نہ کسی انسان کی۔خلیفہ وقت کی طاقت کا راز یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔خلیفہ وقت کے علم کا راز یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ