سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 707 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 707

707 میں یہ مباحثہ شروع ہوا۔پہلے تو پادری صاحب نے اپنی علمیت کا تاثر بٹھانے کی کوشش کی لیکن جب مولانا صاحب نے دلائل پیش کئے تو ان کی حالت غیر ہونی شروع ہو گئی۔جب ایک مرحلہ پر مولانا نور الحق صاحب نے ان سے کہا کہ اگر انہیں اپنے سچا ہونے کا یقین ہے تو اپنے ساتھیوں سمیت میدان میں آئیں اور مباہلہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ بیچ اور جھوٹ کو ظاہر کر دے۔یہ سن کر پادری صاحب کی حالت غیر ہو گئی اور وہ دشنام دہی پر اتر آئے۔اور مناظرہ کی شرائط کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اُٹھ کر چلے گئے۔جب شام کو مولانا نور الحق انور صاحب اپنا تحریر کردہ مضمون سنانا تھا تو پادری صاحب آگئے اور انہوں نے شور و غوغا شروع کر دیا۔یہ ہنگامہ دیکھ کر صاحب صدر نے مناظرہ برخواست کر دیا۔اگر چہ اس طرح یہ مباحثہ ادھورا رہا لیکن اس کے ذریعہ تبلیغ کا ایک دروازہ کھل گیا۔نجی میں مقامی آبادی بھی موجود ہے اور برصغیر سے نقل مکانی کر کے آباد ہونے والے بھی وہاں کئی نسلوں سے رہ رہے ہیں۔پہلے وہاں پر زیادہ تر امی ہندوستانی نسل کے تھے لیکن وقت کے ساتھ مقامی آبادی میں بھی احمدیت کا نفوذ شروع ہوا۔چنانچہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے ۱۹۷۹ ء کے جلسہ سالانہ میں ارشاد فرمایا : ونجی میں جو آئی لینڈ ہیں وہاں کی مقامی آبادی میں احمدیت اثر ورسوخ قائم کر رہی ہے اور بہت سے مقامی لوگ جو ہیں وہ احمدی ہو چکے ہیں۔(۱) (۱) خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء گیانا گیانا میں احمدیت کا تعارف کسی باقاعدہ مبلغ کے جانے سے قبل پہنچ چکا تھا۔گیانا میں رہنے والے ایک صاحب مکرم محمد یوسف خان صاحب اور ان کے بھائی مکرم محمد ابراہیم خان صاحب گیانا میں سٹر ویلج کے رہنے والے تھے۔یہ دونوں ۱۹۵۰ء سے قبل ہی لٹریچر کے مطالعہ کے نتیجے میں احمدیت قبول کر چکے تھے۔اور ان کی مرکز سے باقاعدہ خط وکتابت بھی تھی۔ان کے علاوہ ابتدائی احمدیوں میں ایک صاحب محمد شریف بخش صاحب بھی شامل تھے۔انہوں نے مرکز سے خط و کتابت کر کے عہدیداران کی منظوری حاصل کی اور جماعت کو منظم کیا۔انہیں پہلا پریذیڈنٹ اور مکرم یوسف خان