سلسلہ احمدیہ — Page 693
693 لانا ہے۔چنانچہ جب منیر الدین احمد صاحب سویڈن پہنچے تو انہوں نے ان میں سے ایک شعیب صاحب کو فون کیا کہ میں حضور کا پیغام لے کر آیا ہوں اور آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں خود آ کر آپ سے ملوں گا لیکن پھر وہ نہ آئے۔ناراضگی کی وجہ سے وہ مشن ہاؤس میں آتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔اس دوران منیر الدین احمد صاحب مسجد کی زمین کی خرید کے لئے ناروے گئے اور وہاں برف پر پھسل کر ہڈی ٹوٹ گئی۔سویڈن آکر ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔شعیب صاحب عیادت کے لئے ہسپتال آئے مگر اس دوران منیر الدین احمد صاحب ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر جاچکے تھے۔چنانچہ انہیں عیادت کے لئے مشن ہاؤس آنا پڑا۔اس موقع پر دوسرے دوست بھی موجود تھے۔چنانچہ حضور کا پیغام انہیں پہنچا دیا گیا کہ تمام یوگوسلاوین دوستوں کو لے کر مسجد میں آؤ۔اس کے بعد ناراض یوگوسلاوین احباب پھر سے مسجد آنے لگے۔اس طرح حضور کی شفقت ان احباب کو ابتلاء سے نکالنے کا وسیلہ بن گئی۔(۱) سویڈن میں تبلیغ کا طریقہ عموماً یہ ہوتا کہ سکولوں اور کالجز میں اسلام کے بارے میں لیکچر دئیے جاتے اور اپنی مسجد میں بھی لیکچر کا انتظام کیا جاتا تبلیغ کی بنیاد یہی ہے کہ خدا سے وفا کا تعلق رکھا جائے اور اسی پر توکل کیا جائے۔چنانچہ مکرم حامد کریم صاحب جنہیں سویڈن میں بطور مبلغ خدمت کا موقع ملا ہے بیان کرتے ہیں کہ سویڈن کے ۱۹۸۰ء کے دورہ کے دوران یہ الفاظ حضور کی زبان سے بار بار سنے اپنے خدا سے کبھی بے وفائی نہیں کرنی۔(۲) پہلے سویڈن کا مشن ڈنمارک کے مشن کے حصہ کے طور پر کام کر رہا تھا لیکن خلافت ثالثہ میں اس نے علیحدہ مشن کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ستمبر ۱۹۷۰ء میں مکرم کمال یوسف صاحب، جنہیں پہلے بھی ایک لمبا عرصہ سے سکینڈے نیوین ممالک میں خدمات کی توفیق مل رہی تھی ، یہاں آئے اور کام شروع کیا۔آپ نے پہلے زبان میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ایک سکول میں داخلہ لیا۔اور پھر کام شروع کیا۔خلافت ثالثہ کے دوران سویڈن میں ذیلی تنظیموں کا قیام بھی عمل میں آیا۔چنانچہ شروع میں سویڈن اور ناروے کی مجالس انصار اللہ اکٹھی بنیں۔اور سویڈن میں پہلے زعیم اعلیٰ مکرم ڈاکٹر عبدالرؤف خان صاحب مقرر ہوئے۔خلافت ثانیہ کے دوران بھی سکینڈے نیویا کے ممالک میں مجلس