سلسلہ احمدیہ — Page 665
665 ارشاد فرمایا: ا پر وولٹا فرنچ مغربی افریقہ میں ایک نیا مشن کھولا جارہا ہے۔اس کے اخراجات مغربی افریقہ کے مشن برداشت کریں گے۔فی الحال آئیوری کوسٹ سے ایک لوکل مبلغ وہاں بھیجا 66 جا رہا ہے۔" ۱۹۶۹ء میں یہ اطلاع ملی کہ برکینا فاسو میں پانچ سو احمد یوں کا ایک اجلاس ہوا ہے جس میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ یہاں کے لئے ایک مرکزی مبلغ بھجوایا جائے۔چنانچہ اس درخواست پر حضور نے یہاں کے لئے حکیم محمد ابراہیم صاحب سابق مبلغ مشرقی افریقہ کا انتخاب کیا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انہیں وہاں نہیں بھجوایا جا سکا۔اسی سال غانا کی جماعت کے امیر مکرم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب نے دوسرے ممالک کے ساتھ برکینا فاسو کا بھی دورہ کیا۔اور بو بوجلاسو کے علاوہ ایک اور مقام کوئیں (Konngy) کا بھی دورہ کیا۔اس جگہ پر احمدیوں کی ایک مسجد بھی تھی۔۱۹۷۲ء میں برکینا فاسو کی جماعت کے لئے مشکلات پیدا ہو گئیں اور محکم تعلیم نے کسی غلط فہمی کی بنا پر مشن کو یکسر بند کرنے کا حکم دیا۔لیکن چونکہ مقامی پولیس حقیقت سے زیادہ واقف تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ صرف مشن کا سائن بورڈ اتار دو۔اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ مقامی مسلمانوں کی ایک تنظیم یونین کلچرل مسلمان جماعت کی مخالفت کر رہی تھی۔اس طرح برکینا فاسو میں خدمت کے کام کا آغاز تو کر دیا گیا لیکن یہاں بڑی ترقی شروع ہو نا خلافت رابعہ کے دور میں مقدر تھا۔جنوبی افریقہ میں احمدیت کی مخالفت اس دور میں جنوبی افریقہ میں رنگ ونسل کی بنیاد پر ظلم تو ایک عام سی بات تھی۔اور وقتاً فوقتاً احمدیوں کو تختہ مشق بنایا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ثابت قدم رہے۔صرف احمدی ہونے کی وجہ سے مکرم بدر الدین جعفر صاحب کی اتنی مخالفت ہوئی کہ انہیں اپنا ریسٹورانٹ بند کرنا پڑا۔مخالفت اتنی شدت اختیار کر گئی کہ ایک نوجوان مکرم آرمین صالح صاحب نے احمدیت قبول کی تو ان کے والدین نے گھر سے نکال دیا۔جماعت کے صدر مکرم ہاشم ابراہیم صاحب پر کلہاڑی سے حملہ کیا گیا جو کہ ایک ملانے کیا تھا لیکن یہ قاتلانہ حملہ ناکام رہا۔متعد د احمد یوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔۱۹۸۲ء