سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 666 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 666

666 میں احمدی تراویح ادا کر رہے تھے تو ان پر پتھراؤ کیا گیا۔جنوبی افریقہ میں مشن ہاؤس اور مسجد کی تعمیر کا آغاز ۱۹۷۰ء میں ہوا۔اور اس کا سنگ بنیاد مکرمہ عائشہ پٹ صاحبہ نے رکھا۔آپ جنوبی افریقہ کی جماعت کی ایک بہت مخلص خاتون تھیں۔۱۹۵۹ء میں مکرم ہاشم ابراہیم صاحب کو جماعت احمد یہ جنوبی افریقہ کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔آپ ۱۹۸۵ء میں اپنی وفات تک اس عہدہ پر کام کرتے رہے۔لائبیریا گو کہ لائبیریا میں جماعت کی ترقی مغربی افریقہ کے بعض اور ممالک کی طرح تیز نہیں تھی لیکن اس کی ترقی کا سفر بھی آہستہ آہستہ جاری تھا۔لائبیریا میں دو ماہ کے لئے مکرم عبد القادر جکنی (Jikni) صاحب کو بھی خدمت کی توفیق ملی۔اس وقت آپ گیمبیا میں جماعت کی مقامی مبلغ کے طور پر خدمات بجالا رہے تھے۔اسی طرح غانا کے مکرم جبریل سعید صاحب نے بھی کچھ عرصہ کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر لائبیریا کے مختلف علاقوں میں جا کر احمدیت کا پیغام پہنچایا۔اسی طرح مکرم سنوسی سیسے ( Senusi Sesay) صاحب سیرالیون کے باشندے تھے۔لائبیریا کے مشنری انچارج مکرم مبارک احمد ساقی صاحب کی خواہش پر مکرم مشنری انچارج سیرالیون کی وساطت سے آپ نے نقل مکانی کی اور لائبیریا آکر یہاں کی کیپ ماؤنٹ کاؤنٹی کے ایک گاؤں لارگو میں رہائش اختیار کر لی۔یہاں آپ نے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینی شروع کی اور پھر یہاں پر دینی تعلیم کا اجراء کیا۔یہ گاؤں دار الحکومت منروویا سے تقریباً ۹۰ میل دور ہے۔پہلے جماعت کی کوشش تھی کہ مشن کے لئے حکومت زمین مہیا کر دے لیکن حکومت کی طرف سے یہ عندیا دیا گیا کہ اس غرض کے لئے جماعت کو زمین خریدنی پڑے گی۔چنانچہ زمین کی خرید کے لئے کوششیں شروع کی گئیں اور فروری ۱۹۶۷ء میں منروویا میں ایک مکان کو خریدا گیا۔۱۹۶۹ء میں اس زمین پر مبلغ کی رہائش کی تعمیر مکمل ہوئی۔۲۶ تا ۲۸ جولائی ۱۹۶۷ء کو مغربی افریقہ کے مبلغین کی ایک کانفرنس منروویا (لائبیریا) میں منعقد ہوئی۔اس میں نائیجیریا سے مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب اور غانا سے مکرم عطاء اللہ حکیم صاحب ، سیرالیون سے مکرم بشارت احمد بشیر صاحب اور گیمبیا سے مکرم