سلسلہ احمدیہ — Page 636
636 مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر فرمودہ سورۃ فاتحہ کی ایک جلد اپنے دستخطوں کے ساتھ مرحمت فرمائی اور اس پرتحریرفرمایا اللہ تعالی آپ کو اشاعت تراجم قرآن کی مزید توفیق دیتا چلا جائے۔“ ۱۱ ستمبر کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کیلگری سے امریکہ کے شہر سان فرانسسکو روانہ ہو گئے۔سان فرنسسکو میں حضور نے چار روز قیام فرمایا۔یہاں پر خطبہ جمعہ میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ احمدیت ہمارے کندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری ڈالتی ہے اور اس ذمہ داری کو کما حقہ ادا کرنا ہمارا ایک اہم بنیادی فرض ہے۔آپ نے فرمایا یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ جب تک ہم مغربی قوموں کے سامنے اسلام کا عملی نمونہ پیش نہیں کریں گے اس وقت تک ہم انہیں اسلام کی طرف مائل نہیں کر سکیں گے۔یہاں کے لوگ اگر متاثر ہوں گے تو عملی نمونہ سے ہوں گے نہ کہ محض زبانی پیش کئے جانے والے دلائل سے۔حضور نے فرمایا کہ اس ذمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغربی تہذیب سے بکلی کنارہ کش رہتے ہوئے اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانے میں کوشاں رہیں۔آج تہذیب کے معنی اباحتی زندگی گزارنا ہیں۔حالانکہ بے قید زندگی گزار کر حرام کے بچے جننا تو تہذیب نہیں ہے۔ہمارا کام ان لوگوں کو جو حیوان کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔دوبارہ انسانی زندگی کے قابل بنانا ہے۔آج خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص مغربی تہذیب سے بکلی مجتنب رہتے ہوئے اسلام پر کما حقہ عمل پیرا ہو۔سان فرانسسکو کے بعد حضور واشنگٹن تشریف لے گئے۔واشنگٹن میں حضور نے مبلغین اور امریکہ کے صدر ان جماعت کے ایک اجلاس کی صدارت فرمائی۔مختلف صدرانِ جماعت نے اپنے علاقوں میں تبلیغی مساعی کی رپورٹ حضور کی خدمت میں پیش کی۔اور مالی امور کے متعلق بھی حضور کی خدمت میں ایک رپورٹ پیش کی گئی۔حضور نے مختلف امور کے بارے میں جماعت احمدیہ امریکہ کی راہنمائی فرمائی۔حضور نے یہاں بھی عید گاہ والے منصوبے کے خدو خال بیان فرمائے۔حضور نے فرمایا کہ میں نے ۱۹۷۶ء میں آپ لوگوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں کمیونٹی سینٹر قائم کرنے کی غرض سے زمینیں خریدنے کی ہدایت کی تھی لیکن آپ نے میری اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔میں نے اس سکیم میں بعض تبدیلیاں کی ہیں۔ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ آپ کمیونٹی سینٹر بنانے کی بجائے مختلف علاقوں میں عید گاہیں بنانے کا پروگرام