سلسلہ احمدیہ — Page 588
588 رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو حقیقی سکھ میں بدل دے۔جہاں آپ میرے لئے اور جماعت کے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے وہاں اپنے عزیز وطن کے لئے بھی دعائیں کریں کہ خوشحالی، استحکام اور ترقیات کے سامان پیدا ہوں۔“ جہاز اڑھائی گھنٹے کے لئے ایمسٹر ڈم میں رکا اور پھر وہاں سے روانہ ہو کر لندن پہنچا۔لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ میں انگلستان کے مشنری انچارج مکرم بشیر احمد رفیق صاحب اور دیگر احباب جماعت نے حضور کا استقبال کیا۔ایئر پورٹ سے روانہ ہو کر قافلہ ۱۶ گرین ہال روڈ پر واقع مشن ہاؤس پہنچا۔حضور کی طبیعت کے پیش نظر ابھی باقاعدہ مجالس عرفان اور ملاقاتوں کا سلسلہ تو شروع نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی احباب ذوق و شوق سے مشن ہاؤس اور مسجد میں آتے تاکہ حضور کی زیارت کر سکیں اور اگر ممکن ہو تو حضور کے ارشادات سے مستفید ہوں۔ڈاکٹری ہدایت کے مطابق حضور مشن ہاؤس کے سامنے لان میں چہل قدمی فرماتے اور بہت سے احباب بھی حضور کے ساتھ شامل ہو جاتے۔۸ /اگست کو حضور نے مسجد فضل لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔حضور نے اپنی صحت کے متعلق تفصیلات بیان کرنے کے بعد احباب کو دعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد حضور نے احباب کو پاکستان اور اہل پاکستان کی ترقی کے لئے دعائیں کرنے کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ اس وقت ہمارے ملک پاکستان کو بھی ہماری دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے لیے دعائیں کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔تیسرے حضور نے تمام بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی۔حضور نے فرمایا کہ ہماری جماعتی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ دنیا میں توحید خالص قائم کی جائے اور نوع انسان کے دلوں میں محمد ﷺ کی محبت پیدا کی جائے۔حضور ان دنوں میں مشن ہاؤس کے دفتر میں تشریف لاتے اور ضروری ڈاک ملاحظہ فرماتے اور برطانیہ کے مشنری انچارج صاحب کو تبلیغ کے متعلق ضروری ہدایات سے نوازتے۔بہت سے دنوں میں رات کے کھانے کے بعد حضور احمدی احباب کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما رہتے اور ان سے گفتگو فرماتے۔حضور ڈاکٹری مشورہ کے مطابق لندن سے باہر بھی تشریف لے جا کر چہل قدمی فرماتے۔مکرم ڈاکٹر منظور حسین صاحب اور مکرم ڈاکٹر داؤ د احمد صاحب نے 9 راگست کو تفصیل سے حضور کا طبی معائنہ کیا اور دوسرے ماہر ڈاکٹر صاحبان سے بھی مشورہ فرمایا۔طبی