سلسلہ احمدیہ — Page 587
587 چوہدری محمود احمد صاحب اور مکرم منیر احمد منیب انصاری صاحب نے مہیا کیا ہے) دورہ یورپ ۱۹۷۵ء ۱۹۷۵ء میں حضرت خلیفہ انبیع الثالٹ کی طبیعت ناساز رو رہی تھی۔اگر چہ سال کے وسط تک طبیعت میں افاقہ تھا لیکن حضور کی صحت ابھی پوری طرح بحال نہیں ہوئی تھی۔طبی مشورہ بھی تھا اور احباب جماعت کی درخواست بھی یہ تھی کہ حضور بیرونِ ملک تشریف لے جا کر تشخیص اور علاج کرائیں۔چنانچہ ۵ / اگست ۱۹۷۵ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث صبح نماز فجر کے بعد ربوہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔اسی روز پونے گیارہ بجے آپ بذریعہ ہوائی جہاز کراچی کے لیے روانہ ہو گئے اور اسی روز رات کو اڑھائی بجے حضورلندن کے لیے روانہ ہو گئے۔پاکستان سے روانگی سے قبل حضور نے احباب جماعت کو جو پیغام دیا ، اس میں حضور نے تحریر فرمایا: ” ہمارے رب کریم نے جو ذمہ داریاں ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالی ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی پر جن بشارتوں کا وعدہ کیا ہے وہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم کامل اطاعت کے ساتھ پورے جذبہ ایثار کے ساتھ ، ساری شرائط کے ساتھ عمل صالح کے ہر پہلو کو حسین بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کا نمونہ پورے اندرونی اتحاد کے ساتھ اور بنی نوع انسان کی کامل ہمدردری اور خیر خواہی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں اور حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے والے ہوں۔یادرکھیں کہ ہم کسی کے بھی دشمن نہیں۔سب کے لئے ہی دعائیں کرنے والے ہیں ،سب کے لئے ہی اپنے رب کریم سے خیر کے طالب ہیں اور پورا بھروسہ رکھتے ہیں کہ ہمارا محبوب خدا دنیا کی نجات کے سامان پیدا کرے گا اور نوع انسانی اس کے قدموں میں اکٹھی ہو جائے گی اور امت واحدہ بن جائیگی۔ہر دل میں محمد رسول اللہ ﷺ کا پیار موجزن ہو جائے گا۔پس آپس میں بھی پیار اور اتحاد سے رہیں اور نوع انسانی کے لئے بھی دعائیں کرتے