سلسلہ احمدیہ — Page 554
554 ترجمہ: ذوالفقار علی بھٹو کا خیال تھا کہ یہ قدم پی پی پی میں بائیں بازو کے لوگوں کو حیران کر دے گا وہ قادیانی مسئلہ پر دائیں بازو کی جماعتوں کو مات دے چکے تھے اب وہ بائیں بازو کو بھی مات دینا چاہتے تھے۔(۲) با وجود تمام تجربہ اور ذہانت کے بھٹو صاحب اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پارہے تھے کہ خواہ وہ زرعی اصطلاحات کا معاملہ ہو یا آئین میں مذہبی ترمیمات کا قضیہ ہو، ایسے فیصلوں کے ملک پر قوم پر اور سیاسی عمل پر دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں اور یہ سب معاملات پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔اگر صرف یہ سوچ کر یہ اقدامات کئے جائیں کہ اب اس کے ذریعہ میں دائیں بازو کو مات دے دوں یا اب اس کے ذریعہ میں بائیں باز وکو پچھاڑ دوں گا تو یہ تو بہت سطحی سوچ ہوگی اور نہ صرف ملک کے لئے بلکہ فیصلہ کرنے والوں کے حق میں بھی اس کے بہت خوفناک نتائج نکل سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔جب الیکشن کا سال آیا بھٹو صاحب نے ۷ / مارچ کو قومی اسمبلی کا انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا۔اور سے پہلے وفاقی وزراء میں سے عبد الحفیظ پیرزادہ اور رفیع رضا صاحب اور امریکہ کے سفیر بایوروڈ(Byroade) کو اس فیصلہ سے مطلع کیا۔ایک اہم ملکی معاملہ میں سب سے پہلے ایک غیر ملکی سفیر کو اعتماد میں لیا جا رہا تھا جب کہ خودان کے اکثر وزراء اس فیصلہ سے بے خبر تھے۔(۳) ے جنوری ۱۹۷۷ء کو وزیر اعظم بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک طویل تقریر کی۔اس میں پہلے انہوں نے اپنے دور اقتدار کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔اسلام کے لئے اپنی خدمات کا ذکر کیا اور ۱۹۷۳ء کے آئین کی تشکیل کے کارنامے کا ذکر کیا۔انہوں نے اپنی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈرامائی انداز میں ایک بوتل نکالی کہ پاکستان میں ڈھوڈک کے مقام پر تیل دریافت ہوا ہے اور اپوزیشن کے لیڈر مفتی محمود صاحب کو سونگھائی کہ یہ تیل ہے۔پھر انہوں نے انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ اپنے دور اقتدار کو مزید مشرف بہ اسلام کرنے کے لئے انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اب سے جمعہ کے روز تعطیل ہوگی۔اور کہا کہ اتوار کی تعطیل ایک غیر اسلامی چیز تھی جس کی اصلاح کر دی گئی ہے اور پھر فخریہ انداز میں کہا کہ یہ فرض بھی ہم گنہگاروں نے انجام دیا ہے۔(1) بھٹو صاحب کو ذاتی طور پر مذہب سے تو کم ہی دلچسپی تھی لیکن عموماً یہ رجحان ضعیف الاعتقادی