سلسلہ احمدیہ — Page 553
553 کیا ؟ کہ بھٹو صاحب کی پلیٹ میں قیمہ پڑا ہوا تھا اور کوثر نیازی صاحب کو تو قیمے کی مقدار بھی یادرہ گئی۔اس محفل کی روئیداد سن کر تو بہادر شاہ ظفر کے دربار کی حالت یاد آ جاتی ہے جس کا نقشہ کتاب بزمِ آخر میں کھینچا گیا ہے۔اس میں یہ ذکر تو نہیں ملتا کہ اس دربار میں قوم اور ملک یا دہلی کے مستقبل کی بات بھی ہوتی تھی البتہ بہادر شاہ ظفر کے دستر خوان کی لمبی فہرست بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہے۔ایسی بزم بالآخر ” بزم آخر ہی ثابت ہوتی ہے۔حکومت کے ایوانوں میں تو یہ گفتگو ہورہی تھی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اور آئین میں یہ ترمیم کر کے وہ کتنے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں اور دوسری طرف جماعت احمد یہ کا ردعمل کیا تھا، اس کا اظہار حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس گفتگو سے صرف دوروز قبل پہلے خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں فرمایا تھا: باقی جہاں تک کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا سوال ہے یہ تو میں شروع سے کہ رہا ہوں اس قرار داد سے بھی بہت پہلے سے کہتا چلا آیا ہوں کہ جس شخص نے اپنا اسلام لاہور کی مال ( روڈ) سے خریدا ہو، وہ تو ضائع ہو جائے گا لیکن میں اور تم جنہیں خدا خودا اپنے منہ سے کہتا ہے کہ تم (مومن ) مسلمان ہو تو پھر ہمیں کیا فکر ہے۔دنیا جو مرضی کہتی رہے تمہیں فکر ہی کوئی نہیں۔۔“ ( خطبات ناصر جلد پنجم ص ۶۴۱) بہت سی وجوہات پر ۱۹۷۴ء میں قبل از وقت انتخابات تو نہیں کرائے گئے مگر ۱۹۷۷ء میں وقت سے کچھ عرصہ قبل انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔انتخابات کا اعلان کرنے سے قبل بھٹو صاحب نے کچھ زرعی اصطلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔نہری اراضی کے لئے زیادہ سے زیادہ ملکیت کی حد ۱۵۰ ایکڑ سے کم کر کے 100 ایکڑ اور بارانی اراضی کی زرعی زمین کے لئے زیادہ سے زیادہ ملکیت کی حد ۱۳۰۰ یکڑ سے کم کر کے ۲۰۰ ایکٹر کر دی گئی۔ان کے ایک قریبی معتمد اور وفاقی وزیر اور ان کی انتخابی مہم کے نگران رفیع رضا صاحب لکھتے ہیں۔"ZAB(Zulfikar Ali Bhutto)thought this would surprise the leftist in the PPP; having outflanked the rightist parties on the Qadiani issue, he now wanted to do the same to the left۔"