سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 533 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 533

533 پہلے وزیر اعظم نے تقریر کرتے ہوئے اسے متفقہ قومی فیصلہ قرار دیا۔اور کہا کہ یہ نوے سالہ پرانا مسئلہ تھا جس کا مستقل حل تلاش کر لیا گیا ہے۔اور کہا کہ میں اس سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا۔پھر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔اور اگر کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جو مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہوتا تو اس سے پاکستان کی بنیاد پر ضرب پڑتی پھر انہوں نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اب یہ باب ختم ہو جائے گا۔کل شاید ہمیں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے لیکن اب تک پاکستان کو در پیش آنے والے مسائل میں یہ سب سے زیادہ سنگیں مسئلہ تھا۔لیکن ایک بات بھٹو صاحب بھی محسوس کر رہے تھے۔قومی اسمبلی نے اتنا بڑا کارنامہ سرنجام دیا تھا لیکن اس کی کارروائی خفیہ رکھی گئی تھی۔آخر کیوں؟ سب کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں کیا ہوا تھا۔بھٹو صاحب نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی یہ کارروائی خفیہ ہوئی ہے۔اگر یہ کارروائی خفیہ نہ ہوتی تو ممبران اس یکسوئی سے اظہارِ خیال نہ کر سکتے۔لیکن کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہتی۔یہ کا روائی بھی ایک روز منظر عام پر آئے گی لیکن ابھی کچھ اضافی وقت لگے گا، جس کے بعد یہ کارروائی منظر عام پر لائی جائے گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم اس ریکارڈ کو دفن کر دیں گے۔ہر گز نہیں یہ خیال ایک غیر حقیقی خیال ہوگا۔اگر ہم بھٹو صاحب کی اس بات کا تجزیہ کریں تو وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر یہ کارروائی خفیہ انداز میں نہ کی جاتی تو ممبران اس طرح یکسوئی سے آزادانہ اظہارِ خیال نہ کر سکتے۔جبکہ ہم اس حقیقت کا جائزہ لے چکے ہیں کہ ممبران کے سوالات میں اگر کوئی چیز نمایاں تھی تو وہ پراگندہ خیالی تھی۔اتنے دن سوالات کرنے کے باوجود وہ اصل موضوع سے صرف کتراتے ہی رہے۔اور اگر یکسوئی کا یہی طریق ہے کہ کارروائی خفیہ ہو اور ممبران کی آزادانہ اظہار رائے کا بھی یہی طریق ہے تو پھر تو اسمبلی کی ہر کارروائی خفیہ ہونی چاہئے۔بھٹو صاحب نے یہ تو کہا کہ وہ ایک دن اس کا رروائی کو منظرِ عام پر لے آئیں گے مگر اس کے بعد وہ کئی سال برسر اقتدار رہے لیکن انہوں نے اس کارروائی کو منظر عام پر لانے کا قدم کبھی نہیں اُٹھایا۔یہ سوال ہر صاحب شعورضرور اٹھائے گا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ سپیکر کے کہنے پر مولوی مفتی محمود صاحب نے مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی اس ترمیم کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔اور متفقہ طور پر یہ ترمیم منظور کر لی گئی۔کچھ ہی دیر بعد یہ بل سینٹ میں پیش کیا گیا اور وہاں پر متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اور وہاں پر تالیاں بجا کر اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا