سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 529 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 529

529 کے لیے عوام کے غیظ و غضب سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔اور یہ دھمکیاں کوئی خفیہ انداز میں نہیں دی جا رہی تھیں بلکہ اخبارات میں شائع ہورہی تھیں۔(۹) ۴ ستمبر کو اسلامی سیکریٹریٹ کے سیکریٹری جنرل حسن التہامی صاحب پاکستان آئے۔انہوں نے بیان دیا کہ میں مختلف اسلامی ممالک میں رابطہ قائم کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا دورہ کر رہا ہوں۔اور کہا کہ میں ایک نہایت اہم مشن پر پاکستان آیا ہوں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم بھٹو سے کس مسئلہ پر بات کریں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے۔(۱۰) یہ اعلان ہو چکا تھا کہ قومی اسمبلی کے رستمبر کو فیصلہ کرے گی۔ستمبر کا دن آیا۔یہ دن پاکستان میں یوم دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔اگر کوئی صاحب عقل ہوتا تو یہ دن اس بات کو سوچنے کے لیے ایک موقع تھا کہ پاکستان کے احمدیوں نے اپنے ملک کے دفاع کے لیے کیا قربانیاں دی تھیں۔جب احمدی جنرل میدان جنگ میں اترے تھے تو انہوں نے بزدلی نہیں دکھائی تھی بلکہ جنرل اختر حسین ، لیفٹنٹ جنرل افتخار جنجوعہ شہید اور میجر جنرل عبد العلی ملک جیسے احمدی جرنیلوں کے کارنامے ایسے نہیں جنہیں فراموش کیا جاسکے۔جب جماعت احمد یہ تقسیم برصغیر کے وقت داغ ہجرت کے بعد شدید بحران سے گزر رہی تھی اس وقت بھی پاکستانی احمدیوں نے رضا کارانہ طور پر ملک کے دفاع میں حصہ لیا تھا۔خود ایک احمدی جنرل کے متعلق بھٹو صاحب کے خیالات کیا تھے؟ اس کا اندازہ ان کے اس تبصرے سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے جیل میں اس وقت کیا تھا جب انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔کرنل رفیع صاحب جو اس وقت جیل میں ڈیوٹی پر تھے بھٹو صاحب کی ایک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: پھر کہنے لگے کہ جنرل اختر ملک کو کشمیر کے چھمب جوڑیاں محاذ پر نہ روک دیا جاتا تو وہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو تمہیں نہیں کر دیتے مگر ایوب خان تو اپنے چہیتے جنرل یحیی خان کو ہیرو بنانا چاہتے تھے۔۱۹۶۵ء کی جنگ کے اس تذکرے کے دوران بھٹو صاحب نے جنرل اختر ملک کی بے حد تعریف کی۔کہنے لگے اختر ملک ایک با کمال جنرل تھا۔وہ ایک اعلیٰ درجہ کا سالار تھا۔وہ بڑا بہادر اور دل گردے کا مالک تھا اور فن سپاہ گری کو خوب سمجھتا تھا۔اس جیسا جنرل پاکستانی فوج نے ابھی تک پیدا نہیں کیا۔پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے