سلسلہ احمدیہ — Page 528
528 مطابق نہ ہوا تو مسلمان اسے قبول نہیں کریں گے۔عبدالستار نیازی صاحب جو کہ ۱۹۵۳ء کے فسادات میں داڑھی منڈوا کر بھاگے تھے، نے اس جلسہ میں کہا کہ اگر یہ مسئلہ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق حل نہ کیا گیا تو مسلمان اسے خود حل کر لیں گے۔مودودی صاحب ابھی سے احمدیوں کے بارے میں نئے مطالبات کر رہے تھے۔ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ احمدی افراد کوکلیدی اسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔پاسپورٹ میں ان کے مذہب کا علیحدہ اندراج کیا جائے۔ووٹرلسٹ میں ان کا اندراج علیحدہ کیا جائے۔شناختی کارڈوں میں بھی احمدیوں کے متعلق علیحدہ اندراج کیا جائے۔ربوہ کی زمین جن شرائط پر دی گئی تھی ان کو تبدیل کیا جائے۔ان سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دے کر بھی ان انتہاء پسند مولویوں کی تسلی نہیں ہوگی بلکہ احمدیوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔اور اس کی بنیاد پر اپنی سیاسی دوکان چمکائی جائے گی (۷۶)۔ایک طرف تو قومی اسمبلی کے اراکین اور سپیکر صاحب اس بات کو بار بار یقینی بنانے کے لیے تاکید کر رہے تھے کہ اس کارروائی کو خفیہ رکھا جائے اور اسمبلی کے باہر اس بات کا تذکرہ تک نہ ہو کہ اندر کیا کارروائی ہوئی تھی اور دوسری طرف اسمبلی کے بعض مولوی حضرات اپنی کارکردگی پر جھوٹی تعلیاں کر رہے تھے۔چنانچہ ان ہی دنوں میں نورانی صاحب نے سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا ناصر احمد ہمارے سوالات سے اس قدر بوکھلا اُٹھے کہ وہ یہ کہتے سنے گئے کہ میں تنگ آچکا ہوں۔سوالات کا یہ سلسلہ کب ختم ہو گا۔ان کی یہ ڈینگ کس قدر دور از حقیقت ہے اس کا اندازہ کارروائی کے اس خلاصہ سے ہی ہو جاتا ہے جو ہم نے درج کیا ہے۔یہ سب مولوی حضرات اس قسم کی ڈینگیں تو مارتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ یہ مطالبہ کرے کہ کارروائی کو شائع کیا جائے تاکہ دنیا بھی دیکھے کہ انہوں نے کیسی فتح پائی تھی۔یہ مطالبہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہی کیا گیا ہے۔اسی جلسہ میں نورانی صاحب نے ایک طرف تو یہ کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر ان کے جان و مال کی حفاظت کی جائے اور دوسری طرف یہ بھی کہا مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو ختم کرنے کے لیے یہ پودا کاشت کیا گیا تھا لیکن اب یہ وقت آ گیا ہے کہ اس فتنہ کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اور یہ بھی کہا کہ قادیانیوں سے بائیکاٹ جائز ہے (۸)۔اور جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم واضح الفاظ میں حکومت کو یہ دھمکی دے رہی تھی کہ اگر اس معاملہ میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ دیا گیا تو حکومت