سلسلہ احمدیہ — Page 514
514 کے واضح طور پر کئی مطالب بیان کر رہا ہے اور مولوی حضرات مصر ہیں کہ نہیں اب ہماری شریعت میں اس کے ایک خاص معنی متعین ہو گئے ہیں۔اور اب یہی چلیں گے۔اس کے بعد انہوں نے لغت کا سہارا لے کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی۔اور یہ کوشش خود اتنی بے وزن تھی کہ انہوں نے عربی میں قرآنی اصطلاح کا مطلب بیان کرنے کے لیے اردو کی لغت فرہنگ آصفیہ کا حوالہ پیش کر دیا۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ اردو کی ضرورت نہیں بہت سے الفاظ عربی میں ایک معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اردو میں دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔قرآنی الفاظ کی سب سے معتبر لغت مفردات امام راغب میں وحی کا مطلب ان الفاظ سے بیان ہونا شروع ہوتا ہے۔الوحی کے اصل معنی اشارہ شریعہ کے ہیں۔اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو ” امروجی“ کہا جاتا ہے۔اور المنجد میں وحی کا مطلب یہ لکھا ہے، لکھا ہوا ، پیغام ، الہام ، الهام کردہ چیز ، انبیاء کی وحی ، رمز، اشارہ۔لفظ وحی ان سب پر اطلاق پاتا ہے اور خود قرآن کریم میں وحی کا لفظ اشارہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔اب سپیکر صاحب نے مولوی صاحب کو اس مخمصے سے نکالنے کے لیے کہا مولانا پہلے آپ اپنے Subject کے Question پوچھ لیں۔"Come back to your own subject لیکن مولوی صاحب اشارہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔انہوں نے پھر لمبی چوڑی بے جوڑ بحث شروع کر دی۔کبھی وہ وحی اور الہام کی بحث میں پڑتے اور کبھی یہ کہتے کہ ہم صرف قرآن کریم کو مانتے ہیں اور قادیانی اس کے علاوہ مرزا صاحب کے الہامات کو بھی مانتے ہیں۔سپیکر صاحب نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی وہ ایسے سوال کو دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی ہو چکا ہے لیکن وہ مصر تھے کہ میں Duplicate سوال کروں گا۔آخر انہوں نے پھر ایک سوال شروع کیا اور اپنی طرف سے حوالہ پڑھنا شروع کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے دریافت فرمایا کہ یہ حوالہ کہاں کا ہے۔اس پر انہوں نے الفضل کا حوالہ دیا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ آپ کے ہاتھ میں تو الفضل کا کوئی شمارہ ہے ہی نہیں۔آپ ایک کتاب سے یہ حوالہ پڑھ رہے ہیں اور یہاں پر یہ تجربہ پہلے بھی ہو چکا ہے کہ حوالہ در حوالہ پڑھا جاتا ہے اور وہ غلط نکلتا ہے۔اس پر مولوی صاحب نے اعتراف کیا کہ وہ سلسلہ کے مخالف