سلسلہ احمدیہ — Page 472
472 مسلمانوں میں انتہائی ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوئی تو احمدی بہر حال مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔مندرجہ بالا حوالہ کی روشنی میں اس کا جواب ظاہر ہے۔اسمبلی میں اس عبارت کے ایک جملے کا حوالہ دے کر جھوٹا اعتراض اٹھانے کی بھونڈی کوشش کی گئی تھی۔اس حوالہ میں تو بالکل بر عکس مضمون بیان ہوا تھا۔اسی طرح حضور نے بعض اور حوالوں پر اُٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات بیان فرمائے اور جب ان حوالوں کو مکمل طور پر پڑھا جاتا تو کسی مزید وضاحت کی ضرورت ہی نہ رہتی، یہ واضح ہو جاتا کہ اعتراض غلط تھا۔گزشتہ اجلاسات میں یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا تھا کہ جماعت کے لٹریچر میں ان لوگوں کے لیے سخت لفظ استعمال کئے گئے ہیں جنہوں نے ۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔یہ جنگ ان فوجیوں نے شروع کی تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں تنخواہ دار ملازم تھے۔اور ۱۹۴۷ء میں آزادی کے بعد سے اس جنگ کو جنگ آزادی کا نام دے کر اس میں شریک سپاہیوں کو مجاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔قطع نظر اس بحث کے جماعت کے لٹریچر میں ان کے متعلق کیا لکھا ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ کی حقیقت کیا تھی، یہ دیکھناضروری ہے کہ وہ اہم مسلمان لیڈر جو اس دور کے گواہ تھے اور اس دور کے مسلمانوں کا برا بھلا آج کے لوگوں کی نسبت زیادہ اچھی طرح سمجھتے تھے ، وہ اس جنگ کے متعلق کیا خیالات رکھتے تھے۔کیا وہ سمجھتے تھے کہ اس جنگ میں شریک مسلمانوں کے ہمدرد تھے یا ان کے خیال میں اس جنگ میں شرکت کرنے والوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھا۔حضور نے ان خطوط پر جواب دیا۔اور اس دور کے مشہور مسلمان قائدین کے کچھ حوالہ جات سنائے۔ان میں سے کچھ پیش ہیں۔سرسید احمد خان صاحب اپنی کتاب اسباب بغاوتِ ہند میں تحریر کرتے ہیں۔غور کرنا چاہیے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے بداطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خوری اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جاسکتے تھے۔اس ہنگامے میں کوئی بھی بات مذہب کے مطابق نہیں ہوئی۔سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا۔ملازمین کی نمک حرامی کرنی مذہب کی رو سے درست نہ تھی۔صریح ظاہر ہے کہ