سلسلہ احمدیہ — Page 471
471 دہلی کے متعلق ہے۔اس سفر کا مقصد کیا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ کے طور پر پیش کرنا تھا یا مسلم لیگ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا تھا، اس کا اندازہ اس بیان کے ان حصوں سے بخوبی ہو جاتا ہے۔حضور نے فرمایا: ” میں نے قادیان سے اپنے بعض نمائندے اس غرض کے لئے بھجوائے کہ وہ نواب چھتاری سے تفصیلی گفتگو کر لیں۔اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لیگ کے نمائندوں سے بھی ملیں۔اور ان پر یہ امر واضح کر دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لیگ کے مقاصد کے خلاف کوئی کام کریں۔اگر یہ تحریک لیگ کے مخالف ہو تو ہمیں بتا دیا جائے۔ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر مخالف نہ ہو تو ہم شروع کر دیں۔اس پر لیگ کے بعض نمائندوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحریک ہمارے لئے مفید ہو گی۔بالکل با موقع ہوگی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ذریعہ سے ہماری مدد کی گئی ہے۔“ اور یہ تحریک کیا تھی؟ یہ تحریک یہ تھی حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں:۔۔۔اگر لیگ کے ساتھ حکومت کا ٹکراؤ ہوا تو ہم اس کو مسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے۔اور جو جنگ ہوگی اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے یہ چاہا۔کہ ایسے لوگ جو اثر رکھنے والے ہوں۔خواہ اپنی ذاتی حیثیت کی وجہ سے اور خواہ قومی حیثیت کی وجہ سے، ان کو جمع کیا جائے۔دوسرے میں نے یہ مناسب سمجھا۔کہ کانگرس پر بھی اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ وہ اس غلطی میں مبتلا نہ رہے کہ مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر وہ ہندوستان پر حکومت کر سکے گی۔اس طرح نیشنلسٹ خیالات رکھنے والوں پر بھی یہ واضح کر دیا جائے کہ وہ کانگرس کے ایسے حصوں کو سنبھال کر رکھیں۔‘ (۸۹) کیا یہ حوالہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھ کر ان کے مقاصد کے خلاف کام کر رہی تھی یا وہ مسلمانوں کے مفادات کی خاطر حکومت پر یہ واضح کر رہی تھی کہ اگر مسلم لیگ اور حکومت میں جنگ ہوئی تو ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہوں گے۔اور اس حوالہ سے یہ بات صاف نظر آجاتی ہے کہ احمدیوں نے انگریز حکومت پر یہ واضح کر دیا تھا کہ انگریز حکومت مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کا خیال چھوڑ دے اور اگر اس امر کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت اور ہندوستان کے