سلسلہ احمدیہ — Page 473
473 بے گناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بڑھوں کا مذہب کے بموجب گناہ تھا۔۔۔پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقعہ میں جہاد (۹۰) خواجہ حسن نظامی صاحب نے بہادر شاہ ظفر کے مقدمہ کی روئیداد شائع کی ہے۔حضور نے اس روئیداد میں سے بہادر شاہ ظفر کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس وقت بہادرشاہ ظفر بھی جسے بادشاہ بنایا گیا تھا ، سپاہیوں کے ہاتھ میں ایک بے بس مہرے کی حیثیت رکھتا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے اس جنگ کے متعلق لکھا ہے۔غدر ۱۸۵۷ء میں جس قسم کے ناجائز واقعات پیش آئے اسلام نے کہیں بھی ان کی اجازت نہیں دی۔تیرہ سو برس سے آج تک تاریخ ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کرتی کہ اسلام کی اجازت سے اس قسم کی کوئی حرکت کی گئی ہو جیسی غدر ۵۷ء میں پیش آئی۔“ (۹۱) اور خود اس جنگ کے دوران کئی مولوی صاحبان مسجد میں یہ بحث کرتے رہے تھے کہ یہ جنگ ہرگز جہاد نہیں ہے۔اور کچھ مغل شہزادے ایسے بھی تھے جو ان سپاہیوں کو جو انگریز عورتوں اور بچوں کو قتل کر رہے تھے یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسلام میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا منع ہے۔لیکن یہ لوگ ان کو بھی قتل کرنے پر آمادہ ہوئے تو ان منع کرنے والوں کو وہاں سے فرار ہونا پڑا۔(۹۲) جماعت کے ایک اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، جماعت کے ایک اور مخالف مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کے متعلق تحریر کرتے ہیں۔وو مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ۱۸۵۷ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا۔‘ (۹۳) بہر حال ۱۸۵۷ء کی جنگ کے متعلق جواب ختم ہوا تو حضور نے بعض اور پیش کردہ حوالوں کی حقیقت بیان فرمانی شروع کی۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک حوالہ سیرت الا بدال کے صفحہ ۱۹۳ کا پیش کیا تھا۔حضور نے قومی اسمبلی کے علم میں یہ اضافہ فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس