سلسلہ احمدیہ — Page 380
380 انہوں نے سپیکر اسمبلی کو مخاطب کر کے کیا۔انہوں نے کہا۔۔۔۔جو حوالے مرزا صاحب نے یہاں پڑھے ہیں ان کی تردید جو علماء دین نے کی ہوئی ہے وہ کسی ممبر یا وہ مولانا صاحب کے پاس ہو تو ان کی بابت چونکہ تردید کرنی چاہئے۔اگر تردید ہے تو یہاں جو بیان ہوا ہے اس کا اثر کوئی اچھا نہ ہوگا اس لیے میں گزارش کروں گا کہ عزیز بھٹی صاحب کے پاس ہو تو وہ ان کو بھیجیں۔اس پر عزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ مجھے مفتی محمود صاحب نے لکھ کر دیا ہے کہ تردید ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔اور جب بھی اٹارنی جنرل صاحب مناسب موقع سمجھیں تو پوچھ لیں۔“ یہ فتوے تو علماء کئی صدیوں سے ایک دوسرے کے مسلک اور دوسرے فرقوں کے خلاف دیتے آرہے تھے۔اگر ان کو تسلیم کر کے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی جاتی تو پاکستان میں مسلمان دیکھنے کو نہ ملتا۔یہ کوئی ایک مثال تو نہیں تھی کہ تردید ہو جاتی۔ایسے فتوے تو سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آخر تک اٹارنی جنرل صاحب نے اس تردید کو منظر عام پر لانے کی ضرورت محسوس نہ کی جو مفتی محمود صاحب کے سینے میں ہی دفن رہی۔اس کے بعد شام چھ بجے تک جو کارروائی ہوئی اس کے متعلق جیسا کہ بعد میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جنرل اگزامینیشن ختم ہو گیا تھا اور حوالہ جات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔یہ ایک نہایت اہم مرحلہ کا آغاز ہو رہا تھا۔لیکن اس مرحلہ پر پہنچ کر اٹارنی جنرل صاحب نے جو سوالات کیے یا یوں کہنا چاہئے کہ ممبران میں سے جو جماعت کے مخالف مولوی حضرات تھے انہوں نے جو سوالات انہیں لکھ کر دیئے تا کہ وہ یہ سوالات حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے سامنے رکھیں ، ان کے حوالہ جات میں عجیب افراتفری کا عالم تھا۔جماعت احمدیہ کو تو یہ علم نہیں تھا کہ کیا سوالات کیے جائیں گے۔دوسرا فریق سوالات کر رہا تھا۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر سوال کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ پیش کرے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ کتاب کا صحیح نام ، مصنف کا نام صفحہ نمبر اور مطبع خانہ کا نام سن اشاعت وغیرہ بتائے تا کہ جواب دینے والا اصل حوالہ دیکھ کر جواب دے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات نے اس تاریخی کارروائی کے لیے بنیادی تیاری کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔بعض مرتبہ تو متعلقہ بحث کے لیے ان کے پاس بنیادی معلومات بھی نہیں مہیا ہوتی تھیں۔پہلے تو جب حضور نے آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا پڑھا لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقرة :۲۸۲) تو