سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 379 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 379

379 گویا قائد اعظم کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مسلمان لفظ کا مفہوم ہے کیا۔اور اب ان کو یہ فکر بہت تھی کہ قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا گیا۔اور یہ امر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ احمدیوں پر یہ اعتراض کہ انہوں نے شبیر عثمانی صاحب کی اقتداء میں قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہیں ادا کی اور یہ امر کس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے کہ شبیر عثمانی صاحب نے نہ صرف یہ اعلان کیا تھا کہ احمدی مرتد ہیں بلکہ اس وجہ سے احمدیوں کے واجب القتل ہونے کا تحریری فتویٰ بھی دیا تھا اور اس امر کا ذکر ۱۹۵۳ء میں فسادات پر ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ میں بھی ہے۔لیکن شبیر عثمانی صاحب پر کوئی اعتراض نہیں اگر اعتراض ہے تو احمد یوں پر ہے جنہوں نے ان کی اقتدا میں نماز جنازہ نہیں پڑھی۔مفتی محمود صاحب نے کہا کہ ” جناب والا جب تکفیر کے مسئلہ کا ذکر ہوا جنازے کی نماز کا ذکر ہو رہا تھا وہاں Categories نہیں تھیں۔اس وقت بھی انہوں نے مختلف عبارتیں پڑھیں مسلمان کروڑوں کے درمیان تکفیر کا مسئلہ تھا اور ساری عبارتیں پڑھی گئیں۔جناب والا متعلقہ بات نہیں تھی۔جناب والا بالکل غیر متعلقہ بات تھی۔۔۔“ ایک اور مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے کہا کہ انہوں نے علماء کے بارے میں جھوٹے الزامات لگائے ہیں۔یعنی یہ کفر کے فتاویٰ علماء نے نہیں دیئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ فتاویٰ محضر نامہ میں بھی شامل تھے اور ان کے ساتھ مکمل حوالے بھی دے دیئے گئے تھے۔اگر کوئی حوالہ غلط تھا تو ممبران جو حج بن کر بیٹھے تھے یہ سوال اُٹھا سکتے تھے لیکن کس طرح اُٹھاتے اس طرح کے فتوے دینا تو علماء کا معمول تھا۔اس موقع پر ایک ممبر عبدالحمید جتوئی صاحب نے کہا کہ ہم کل سے جج بنے بیٹھے ہیں کہ ہم فیصلہ کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دوست تو اس طرح ہیں جیسے کسی نان ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جائے۔۔۔اور ہم سے فیصلہ کی امید کی جاتی ہے۔اس پر سپیکر نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔اس پر پھر عبد الحمید جتوئی صاحب نے کہا کہ آپ اس آدمی کو فیصلہ کا حق دیتے ہیں جس کو قانون کا ہی نہیں پتا۔اس اظہارِ رائے سے اندازہ ہوتا تھا کہ جس طرز پر کارروائی جاری تھی اس پر اندر سے خود کئی ممبران کا ضمیر مطمئن نہیں تھا۔اور غیر احمدی علماء کے فتاویٰ جو پڑھے گئے تھے ان سے کئی ممبران کے دل پر کیا اثر تھا اس کا اندازہ ایک اور ممبر چوہدری غلام رسول تارڑ صاحب کے اس تبصرہ سے ہوتا ہے جو