سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 374 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 374

374 عرفان شریعت - حصہ سوم ص ۷۵ اب تک ممبرانِ اسمبلی اٹارنی جنرل صاحب کے ذریعہ جو سوالات کر رہے تھے ان کی طرز یہ جارہی تھی کہ چونکہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ، ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے ، ان کی عورتیں ان کے مردوں سے شادی نہیں کرتیں، اس لیے یہ خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں ،لہذا دوسرے مسلمان اگر ان کو غیر مسلم قرار دے دیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔لیکن جب حضور نے غیر احمدی جید علماء کی طرف سے دیئے گئے صرف چند فتاویٰ پڑھ کر سنائے تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق کیا خیالات رکھتے ہیں۔نماز پڑھنا یا جنازہ پڑھنا تو درکنار انہوں نے تو یہ بھی لکھا ہوا تھا نہ صرف دوسرے فرقہ کافر ہیں بلکہ اگر ان سے شادی کر لی جائے تو اولا د ولد الزنا ہو گی۔اگر اسی امر کو معیار بنا کر آئین میں غیر مسلم بنانے کا عمل شروع کیا جائے تو تمام فرقے غیر مسلم قرار دے دیئے جائیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا کوئی شخص دیکھنے کو بھی نہ ملے گا جسے آئینی طور پر مسلمان کہا جاسکے۔جنازہ کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ فرض کفایہ ہے۔اگر کہیں پر جنازہ پڑھنے والا کوئی مسلمان نہ ہو تو احمدیوں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ضرور اس غیر احمدی مسلمان کا جنازہ پڑھیں۔بلکہ ایک مرتبہ جب ڈنمارک میں ایک مسلمان عورت کے جنازہ کی صورت میں ایسا نہیں کیا گیا تو اس پر حضور نے اس جماعت پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔جب یہ حوالے پڑھے گئے تو جواثر اٹارنی جنرل صاحب اپنے سوالات سے قائم کرنا چاہتے تھے وہ زائل ہو گیا۔لیکن انہوں نے پھر مطلوبہ تاثر کو قائم کرنے کے لیے یہ ذکر چھیڑا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے انہیں یاد دلایا کہ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ ایک احمدی بچہ کی تدفین کی گئی اور غیر احمدیوں نے اس بنا پر کہ یہ ایک احمدی بچہ تھا اس کی قبر اکھیڑ کر لاش کو باہر نکلوایا۔اور یہ یاد دلایا کہ انہی دنوں میں فسادات کے دوران گوجرانوالہ میں ایک احمدی بچے کی تدفین کو روکا گیا اور قائد آباد میں ایک احمدی کی قبر اکھیڑ کر اس کی لاش کو قبر سے باہر نکالا گیا۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے سوال اٹھایا کہ حالیہ دنوں میں احمدیوں کے مکانوں اور دوکانوں کو جلایا گیا، انہیں لوٹا گیا زخمی کیا گیا ان کے خلاف کس نے آواز اٹھائیں اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے مختصراً اتنا کہا کہ ان کو کوئی Defend نہیں کرتا۔یہ اس سوال کا جواب نہیں تھا