سلسلہ احمدیہ — Page 373
373 ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا ترکہ نہیں پاسکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی۔یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول ، سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام۔جو ان کے ملعون عقیدہ پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے۔۔۔۔کافربے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتو علی کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے بچے پکے سنی بنیں۔“ فتوی مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان بحوالہ رسالہ ردالرافضہ) یہ اس میں آگیا ہے۔یہاں یہ سوال نہیں کہ احمدی ، وہابیوں ، دیوبندیوں وغیرہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے یا ان کی شادیوں کو کیوں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے کہیں زیادہ فتویٰ موجود ہے۔ہمیں ساروں کو اکٹھا لے کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔“ حضور نے یہ صرف چند مثالیں ممبران قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کی تھیں ورنہ یہ فتاوی تو سینکڑوں ہزاروں ہیں اور مختلف فرقوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں۔چند اور مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔سرور غریزی فتاوی عزیزی میں لکھا ہے کہ جب مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی سے ایک سوال پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: بلاشبہ فرقہ امامیہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے منکر ہیں اور کتب فقہ میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے جس نے انکار کیا تو وہ اجماع قطعی کا منکر ہوا اور وہ کافر ہو گیا۔۔۔“ لکھنوص ۴۴۰) (سرور غریزی۔فتاوی عزیزی جلد اول۔اردو ترجمہ، باہتمام محمد فخر الدین فخر المطابع فقہ کی کتاب عرفانِ شریعت میں لکھا ہے اور فتاوی عالمگیری کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ وو جو شخص امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قیاس کو حق نہ مانے وہ کافر ہے۔“