سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 372 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 372

372 جوان کے اقوال لغویہ پر اطلاع پا کر کافر نہ مانے یا شک کرے وہ کافر ہے۔ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ان کا نکاح کسی مسلمان کا فریا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔اس کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام ہیں۔ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔یہ اہل حدیث کے پیچھے نماز پڑھنے کا ذکر ہورہا ہے۔باقی اس کے حوالے میں چھوڑتا ہوں۔بریلوی کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا تعلق ہے دیوبندی علماء یہ شرعی حکم ہمیں سناتے ہیں : ” جو شخص اللہ جل شانہ کے سواعلم غیب کسی دوسرے کا ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کا فر ہے۔اس کی اعانت اس سے میل جول محبت و 66 موقت سب حرام ہیں۔یه فتوی رشیدیہ میں رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے جو ان کے مرشد ہیں۔میں ایک ایک فتوے کو صرف بتا رہا ہوں تا کہ معاملہ صاف کر سکوں۔پر ویزیوں اور چکڑالویوں کے متعلق نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ فتویٰ ہے چکڑالویت حضور سرور کائنات علیہ التسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کے منکر اور آپ کی افادیت مبارکہ کی جانی دشمن۔رسول کریم کے کھلے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔جانتے ہو باغی کی سزا کیا ہے صرف گولی۔“ شیعہ حضرات کے متعلق کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خاص زنا ہے۔معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مردسنی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہر گز نہ ہو گا محض زنا ہوگا۔اولا د ولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگر چہ اولا د بھی سنی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ