سلسلہ احمدیہ — Page 371
371 66 مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد و کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ بھی مرتد و کافر ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل محترز و مجتنب رہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں انہیں گھنے دیں۔نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں اور نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں، مریں تو گاڑ نے تو پنے میں شرکت نہ کریں۔مسلمانوں کے قبرستان میں کہیں جگہ نہ دیں غرض ان سے بالکل احتیاط واجتناب رکھیں۔۔۔۔“ ابھی یہ باغ و بہار قسم کا فتویٰ جاری تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ یہ تو محضر نامہ میں بھی شامل ہے اس لیے اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سے ان کی بے چینی ظاہر ہوتی تھی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ مجھے یہاں پر دہرانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اس پر حضور نے اس فتوے کا باقی حصہ پڑھ کر سنایا۔پس دیو بند یہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں۔ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی وہ حرامی ہو گی۔اور از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔“ حضور نے فرمایا کہ اس اشتہار میں جن علماء کے نام ہیں، ان میں چند ایک یہ ہیں سید جماعت علی شاہ، حامد رضا خان صاحب قادری غوری رضوی بریلوی، محمد کرم دین محمد جمیل احمد وغیرہ بہت سے علماء کے نام ہیں۔ایک رخ یہ بھی ہے تصویر کا۔ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے متعلق آپ مجھ سے وضاحت کروانا چاہتے ہیں۔اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔یہ بہت سارے حوالے ہیں۔میں ساروں کو چھوڑتا ہوں تا کہ وقت ضائع نہ ہو۔اہلِ حدیث کے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیر مبہم الفاظ میں خبر دار کرتے ہیں کہ وہابیہ وغیرہ مقلدین زمانہ بالا تفاق علماء حرمین شریفین کا فرمرتد ہیں ایسے کہ