سلسلہ احمدیہ — Page 360
360 حدیث بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے باب ٣٩١ نهى عن الجدال في القرآن - جامع ترمذی ابواب الطہارۃ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کاہن کے پاس گیا اس نے اس کا جو محمد ﷺ پر نازل ہوا انکار کیا باب ما جاء في كراهية اتيان الحائض جامع ترندی میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔(باب في كراهية الحلف بغیر اللہ)۔اسی طرح ترندی میں بیان ہوا ہے کہ جس کو کوئی عطا دی گئی اور اس نے تعریف کی تو اس نے شکر کیا اور جس نے چھپایا اس نے کفر کیا۔باب ما جاء في المتشبع بما لم يعطه)۔اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا کہ اس کی تائید کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے نکل گیا (مشکوۃ شريف بـاب الظلم ) ان احادیث میں بہت سے امور ایسے بیان ہوئے ہیں جن کا مرتکب جب تک کہ ان کو ترک نہیں کرتا وہ بموجب ارشادِ نبوی کفر کرتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں جو لوگ ان افعال کے مرتکب ہوتے تھے اس وقت کیا قانون کی رو سے وہ غیر مسلم شمار ہوتے تھے کہ نہیں۔مثلاً اس وقت کے اسلامی قانون کے مطابق مسلمانوں سے زکوۃ وصول کی جاتی تھی اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جا تا تھا۔اور زمانہ نبوی میں ایسے لوگ موجود تھے جو نماز ادا نہیں کرتے تھے یا میت پر شیخ کر نوحہ کرتے تھے یا اپنے باپوں سے بیزار تھے، یا غلطی سے غیر اللہ کی قسم کھا جاتے تھے تو کیا ایسے لوگوں کو اس وقت کے قانون کی رو سے غیر مسلم شمار کر کے ان سے جزیہ وصول کیا جا تا تھا، یا ان پر ممانعت تھی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہ سکیں یا ان پر ممانعت تھی کہ وہ مسجد میں آکر مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً ایسا نہیں تھا ان پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ان افعال کے مرتکب جب تک کہ اپنے افعال سے تو بہ کر کے انہیں ترک نہ کر دیں کفر تو کرتے تھے لیکن یہ ان کا اور خدا تعالیٰ کے درمیان معاملہ تھا۔گو ان احادیث کی رو سے ان افعال کے مرتکب افراد خدا کی نظر میں دائرہ اسلام سے تو خارج ہو جاتے تھے لیکن ملتِ اسلامیہ میں شامل رہتے تھے۔اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے خود اس امر کو اچھی طرح واضح فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان