سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 359 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 359

359 اسی مضمون کے متعلق حضرت مصلح موعوداً اپنی تصنیف آئینہ صداقت میں تحریر فرماتے ہیں ” میرا عقیدہ ہے کہ کفر در حقیقت خدا تعالیٰ کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی کوئی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہو کہ اس کا ماننا لوگوں کے لئے حجت ہو۔اسکا انکار کفر ہے اور چونکہ وحی کو انسان تب ہی مان سکتا ہے کہ جب وحی لانے والے پر ایمان لائے۔اس لئے وحی لانے والے پر ایمان بھی ضروری ہے۔اور جو نہ مانے وہ کافر ہے۔اس وجہ سے نہیں کہ وہ زید یا بکر کو نہیں مانتا۔بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے نہ ماننے کے نتیجہ میں اسے خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔۔۔۔اور چونکہ میرے نزدیک ایسی وجی جس کا ماننا تمام بنی نوع انسان پر فرض کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود پر ہوئی ہے اس لئے میرے نزدیک بموجب تعلیم قرآن کریم کے ان کے نہ ماننے والے کافر ہیں خواہ وہ باقی سب صداقتوں کو مانتے ہوں۔(۴۷) سرسری نظر سے ان حوالہ جات کو پڑھنے سے ایک ناواقف شخص شاید یہ نتیجہ نکالے کہ ان حوالہ جات میں تضاد ہے کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر ہے اور ایک اور جگہ پر لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے۔لیکن در حقیقت یہاں پر کوئی تضاد نہیں۔اس قسم کے مضامین احادیث نبویہ ﷺ میں بھی بیان ہوئے ہیں۔مثلاً صحیح مسلم کی کتاب الایمان میں روایات ہیں کہ جو اپنے آپ کو کسی کا بیٹا کہے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اسکا بیٹا نہیں ہے اس نے کفر کیا (باب من ادعی الی غیر ابیہ) اور ایک اور روایت میں ہے کہ جو اپنے باپ سے بیزار ہوا وہ کافر ہو گیا ( باب بیان حال ايمان من رغب عن ابيه) اسی طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں دو چیزیں ہیں جو کفر ہیں۔ایک نسب پر طعن کرنا اور دوسرے میت پر چلا کر رونا اطلاق اسم الكفر على طعن في النسب والنياحة)۔اسی طرح ارشاد نبوی ہے کہ جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش پڑی اس نے کفر کیا بیان کفر من قال مطرنا بالنوع) پھر ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ آدمی اور شرک اور کفر کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہی ہے اور اس پر امام مسلم نے باب ہی یہ باندھا ہے بیان اطلاق اسما ء لكفر على من ترک الصلواة يعنی جس نے نماز ترک کی اس پر کفر کے نام کے اطلاق کا بیان۔اسی طرح سنن ابوداؤد میں