سلسلہ احمدیہ — Page 357
357 کے ان کے لئے کوئی فتوی طیار نہیں کیا۔اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے رسول اللہ ﷺ کا فتویٰ ان پر یہی ہے کہ وہ خود کافر ہیں۔سو میں ان کو کافر نہیں کہتا۔بلکہ وہ مجھ کو کافر کہہ کر خود فتویٰ نبوی کے نیچے آتے ہیں۔“ (۴۴) تریاق القلوب میں اسی عبارت کے نیچے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔یہ نکتہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں۔لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر اہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ان کے انکار سے کوئی کا فرنہیں بن جاتا۔ہاں بدقسمت منکر جو ان مقربانِ الہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ نور ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیاء اور ان سے دشمنی رکھنا اول انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمال حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی ان سے توفیق چھین لیتا ہے۔(۴۴) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آپ نے تریاق القلوب میں تحریرفرمایا ہے کہ آپ کے انکار سے کوئی شخص کا فرنہیں بنتا علاوہ ان لوگوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔لیکن عبد الحکیم خان کے نام مکتوب میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ہر شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔اس کا جواب آپ نے حقیقۃ الوحی میں یہ تحریر فرمایا: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھیراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزارہا