سلسلہ احمدیہ — Page 356
356 ہے۔اس اعتراض کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ آپ کی بعض تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کے متعلق کفر کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے ، اب قومی اسمبلی کا یہ حق ہے کہ وہ احمد یوں کو آئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دے دے۔چونکہ یہ اعتراض بار بار پیش کیا گیا۔اس لئے مناسب ہوگا کہ اس جگہ یہ ذکر ایک جگہ پر کر دیا جائے۔اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اعتراض ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں بھی کیا گیا تھا۔سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کفر کے لغوی معنی کیا ہیں۔اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں۔رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے۔کاشتکار چونکہ زمین کے اندر بیج چھپاتا ہے اس لیے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے۔کفر کے معنی نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے بھی ہیں۔اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، شریعت یا نبوت کا انکار ہے۔(مفردات امام راغب) مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی تحریروں کے بعض حوالے درج ذیل ہیں۔اگر سرسری نظر سے دیکھا جائے تو ان میں تضاد دکھائی دے گا لیکن اگر احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں اس مفہوم کو سمجھا جائے تو یہ در حقیقت تضاد نہیں۔ان میں وہ حوالہ جات بھی شامل ہیں جن پر اعتراض کیا جاتا ہے اور ان کے حوالے اس کارروائی کے دوران بھی پیش کئے گئے تھے۔الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام تریاق القلوب میں تحریر فرماتے ہیں کیونکہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کا فریا دجال نہیں ہوسکتا۔ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہوگا۔اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ہاں میں ایسے سب لوگوں کو ضال اور جادہ صدق وصواب سے دور سمجھتا ہوں جو اُن سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں۔میں بلا شبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا ہوں جو حق اور راستی سے منحرف ہے۔لیکن میں کسی کلمہ گو کا نام کا فرنہیں رکھتا جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کافر نہ بنا لیوے۔سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا۔میرے لئے فتویٰ طیار کیا۔میں نے سبقت کر