سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 358 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 358

358 نشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میں مفتری نہیں اور مومن ہوں۔تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے۔اور مجھے کافر ٹھیرا کر اپنے کفر پر مہر لگا دی۔یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کا فر ہو جاتا ہے۔۔۔‘(۴۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔کیونکہ کا فر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے ( اول ) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا ( دوم ) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اسکو با وجود تمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کا فر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص با وجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام محبت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے (جس کی بناء ظاہر پر ہے ) اس کا نام بھی کا فر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اسکو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُسکی نسبت نجات کا حکم دیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک با وجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔ہمیں دعوے سے کہنا نہیں چاہئے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے۔۔۔۔۔‘(۴۶)