سلسلہ احمدیہ — Page 274
274 اس کو تو شاید معمول کی بات سمجھا جاتا لیکن اس کے ساتھ یہ اعلانات چھپنے لگے کہ مرکزی قادیانی کمیٹی کو ایک ہزار نو جوانوں کی ضرورت ہے۔اور کالج کے طلبا خاص طور پر اس طرف توجہ کریں۔( ہفت روزہ چٹان ۲۷ رمئی ۱۹۷۴ء ص ۱۷) اور اس کے ساتھ جماعت کے مخالف جریدے عوام الناس کو احمدیت کے خلاف بھڑ کانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا ر ہے تھے۔اور یہ سب کچھ کس انداز میں کیا جارہا تھا اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آنحضرت کی سنت کی روشنی میں احباب جماعت کو تلقین فرمائی تھی کہ وہ گھڑ سواری میں دلچسپی لیں۔اور پھر صد سالہ جو بلی کے لیے چندہ کی تحریک کی گئی۔اس پر المنبر نے ۸ مارچ ۱۹۷۴ء کی اشاعت کے سرورق پر یہ اعلان جلی حروف میں شائع کیا۔”ربوہ میں دس ہزار انعامی گھوڑوں کی فوج۔۔۔۔اور۔۔نو کروڑ روپیہ کے فنڈ۔۔۔کی فراہمی۔۔کن مقاصد کیلئے؟۔۔۔مزید برآں۔۔قادیانی سیاست کا رخ۔۔۔اب کس جانب ہے؟۔۔اور ہم مسلمان کیا سوچ رہے ہیں؟۔۔۔کیا کر رہے ہیں؟۔۔۔۔کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔اور۔۔۔ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“ شروع ہی سے جماعت کے مخالفین کا یہ طریق رہا ہے کہ جب وہ ملک میں کوئی شورش یا فساد برپا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہوں تو یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ قادیانی ملک میں فساد پھیلانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ورنہ اس دور میں کوئی دس ہزار گھوڑوں کی فوج پال کر کیا کر سکتا ہے ، اس کا جواب کسی سے پوشیدہ نہیں۔جنہوں نے فسادات بر پا کرنے ہوں یا بغاوت کا ماحول پیدا کرنا ہو وہ گھوڑے پالنے کا تردد نہیں کرتے۔یہ بات واضح تھی کہ اب جماعت کے خلاف شورش کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور اس مرتبہ تعلیمی ادروں کے طلبا کو بھی اس فساد میں ملوث کیا جائے گا۔احباب جماعت کو صبر سے کام لینے کی تلقین جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ۱۹۷۴ ء تک جماعت کے خلاف تیار کی جانے والی عالمی