سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 275 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 275

275 سازش کے آثار افق پر واضح نظر آرہے تھے۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس شوریٰ میں تفصیل سے بیان فرما چکے تھے کہ جماعت کے مخالفین اب کس طرح کی سازش تیار کر رہے ہیں۔اس پس منظر میں حضور نے ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ اس دنیا میں انبیاء اور مامورین کا آنا دنیا کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے ہوتا ہے۔اس لیے منکرین پر گرفت فوراً نہیں ہوتی تا کہ ان میں سے زیادہ سے زیادہ لوگ ہدایت پا جائیں اور جب عذاب آئے بھی تو سب کے سب ہلاک نہیں ہوتے ، جو باقی رہ جاتے ہیں ان میں سے بہت سے ہدایت پا کر دین کی تقویت کا باعث بن جاتے ہیں اور اس طرح ایمان لانے والوں کی تربیت کی جاتی ہے اور امتحان لیا جاتا ہے۔پھر حضور نے جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا: ” ہماری جماعت اس وقت مہدی اور مسیح علیہ السلام کی جماعت ہے اور وہ احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں دکھ نہیں دئے جائیں گے، ہم پر مصیبتیں نازل نہیں کی جائیں گی۔ہماری ہلاکت کے سامان نہیں کئے جائیں گے ہمیں ذلیل کرنے کی کوششیں نہیں کی جائیں گی اور آرام (کے) ساتھ ہم آخری غلبہ کو حاصل کر لیں گے وہ غلطی خوردہ ہے اس نے اس سنت کو نہیں پہچانا جو آدم سے لے کر آج تک انسان نے خدا تعالیٰ کی سنت پائی۔ہمارا کام ہے دعائیں کرنا۔اللہ تعالیٰ کا یہ کام ہے کہ جس وقت وہ مناسب سمجھے اس وقت وہ اپنے عزیز ہونے کا اپنے قہار ہونے کا جلوہ دکھائے اور کچھ کو ہلاک کر دے اور بہتوں کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے۔۔پس ہمارا کام اپنے لئے یہ دعا کرنا ہے کہ جو ہمیں دوسروں کے لیے دعائیں کرنے کے لیے تعلیم دی گئی ہے کہیں ہم اس کو بھول نہ جائیں۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں۔ہمارا کام غصہ پینا ہے ہمارا کام انتقام اور بدلہ لینا نہیں ہمارا کام معاف کرنا ہے ہمارا کام دعائیں کرنا ہے ان کے لئے جو ہمارے اشد ترین مخالف ہیں کیونکہ وہ پہچانتے نہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہیں۔“ پھر احباب کو ہر حالت میں غصہ کے ردعمل سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔۔۔۔۔۔مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احباب جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی وو