سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 267 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 267

267 صاف کرا دیا گیا۔جنگ احد بالخصوص امیر حمزہ رضی اللہ عنہم کی قبریں ہموار حالت میں ہیں جو میں نے اپنی آنکھوں سے ۱۹۶۵ء میں دیکھی ہیں۔اب چاروں طرف صرف پتھروں کے ٹکڑوں رکھے ہوئے ہیں۔جنت البقیع میں بھی مزارات کا یہی حال ہے۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کے فرزند یہاں آ کر قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔لہذا ان ماثر کو ہی اڑا دیا۔ایسا کرنے سے دنیائے اسلام میں ہیجان پھیل گیا اور مشرق سے لے کر مغرب تک اضطراب اور جوش و غضب کی لہر دوڑ گئی۔احتجاج کیا گیا۔جس کے نتیجے میں سلطان ابن سعود نے ممالک اسلامیہ سے تبادلہ خیالات کے لئے ایک مؤتمر ( اجتماع ) منعقد کی۔جس میں ہندوستان ، کابل، مصر، شام، حجاز ، روس وغیرہ کے علماء کو دعوت دی گئی۔“ (حیات عثمانی، مصنفہ پروفیسرمحمد انوارالحسن شیر کوئی، ناشر مکتبہ دارالعلوم کراچی ص ۲۳۷) ان حالات میں خلافت کمیٹی کی طرف سے جو تار سلطان ابن سعود کو بھجوایا گیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حجاز کے متعلق معاملات کے بارے میں ایک عالمی موتمر اسلامی منعقد کی جائے اس کے متعلق خود مولانامحمد علی جو ہر تحریر کرتے ہیں کہ اس کے جواب میں سلطان ابن سعود کا تار ملا کہ آپ کا تار ملا۔آپ کے اور مسلمانان ہند کے صحیح خیالات کا شکریہ۔۔۔آخری فیصلہ تمام دنیائے اسلام کے ہاتھ میں ہے۔“ ( مولا نا محمد علی آب بیتی اور فکری مقالات مرتبہ سید شاه محمد قادری ناشر تخلیقات ص۲۲۸) مئی ۱۹۲۶ء میں ہندوستان سے ایک وفد مکہ مکرمہ روانہ ہوا تا کہ وہاں پر سلطان عبد العزیز ابن سعود کی صدارت میں منعقد ہونے والی موتمر عالم اسلامی میں شرکت کر سکے۔اس وفد کی صدارت سید سلمان ندوی کر رہے تھے اور اس کے ممبران میں مولانا محمد علی جوہر ،مولانا شوکت علی صاحب، مولوی شبیر عثمانی مفتی کفایت اللہ، عبد الحلیم ، احمد سعید ، شعیب قریشی ،محمد عرفان ، ظفر علی خان صاحب وغیرہ شامل تھے۔یہ وفد ہندوستان سے روانہ ہوا اور حجاز پہنچا۔بہت سے لوگ جن میں مولا نا محمد علی جو ہر بھی شامل تھے یہ امید رکھتے تھے کہ ابن سعود نے حجاز پر قبضہ تو کر لیا ہے لیکن وہ اس مقدس خطے اپنی موروثی بادشاہت قائم کرنے کی بجائے یہاں پر تمام عالم اسلام کے مشورے سے ایک علیحدہ نظام حکومت قائم کریں گے اور سلطان عبد العزیز ابن سعود نے اپنی ایک تار میں بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ حجاز کے