سلسلہ احمدیہ — Page 263
263 کے قتل کے لیے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہی ہوں گے۔“ الصراط السویٰ فی احوال المہدی مصنفہ مولوی سید محمد سبطین السرسوی، ناشر مینجر البرہان بکڈ پولا ہور ، صفحہ ۵۰۷) اس دور میں اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب آثار القیامہ فی نجح الکرامہ میں تحریر کرتے ہیں۔” جب مہدی علیہ السلام احیاء سنت اور امانت بدعت پر مقاتلہ فرمائیں گے تو علماء وقت جو کہ فقہاء کی تقلید کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں اور آباء واجداد کی پیروی کے خوگر ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص ہمارے دین وملت پر خانہ برانداز ہے اور مخالفت کریں گے اور اپنی عادت کے موافق اس کی تکفیر تضلیل کا فیصلہ کریں گے۔“ آثار القيامة في حج الكرامہ مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہان بھو پال صفحہ ۳۶۳) تو ان مختلف فرقوں کے لٹریچر سے یہی ثابت ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہی نظریہ رہا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت اس وقت کے علماء ان کی مخالفت بلکہ قتل پر کمر بستہ ہوں گے۔ہماری تحقیق کے مطابق تو کبھی کسی فرقہ نے اس بات کا اعلان کیا ہی نہیں کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو اس وقت کے علماء ان کی تائید اور حمایت کریں گے۔بلکہ مختلف ائمہ احادیث نے جب قرب قیامت کی علامات کے بارے میں احادیث جمع کیں تو ان میں اس وقت کے نام نہاد علماء کے بارے جس قسم کی احادیث بیان ہوئی ہیں ان کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔چنانچہ کنز العمال فی سنن الا قوال والافعال میں کتاب القیامۃ میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے تَكُونُ فِي أُمَّتَى قَزَعَةٌ فَيَصِيرُ النَّاسُ إِلَى عُلَمَاءِ هِمْ فَإِذَا هُمْ قِرَدَةً وَ خَنَازِيرُ یعنی میری امت پر ایسا وقت آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے اور دیکھیں