سلسلہ احمدیہ — Page 16
16 ایک سب کمیٹی نے ان تجاویز پر غور کر کے ایک پروگرام مرتب کیا۔اس پروگرام میں قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبے شامل تھے۔قلیل المیعاد پروگرام کے تحت فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضرت مصلح موعود کے تمام خطبات، تقاریر اور ملفوظات کو مرتب کر کے شائع کرنے کا انتظام کرنا تھا، حضرت مصلح موعودؓ کی سوانح حیات مرتب کر کے شائع کرنا تھی اور چونکہ حضرت مصلح موعود کی بہت خواہش تھی کہ عمدہ رسائل اور کتب تحقیق کر کے لکھے جائیں۔چنانچہ فاؤنڈیشن نے فیصلہ کیا کہ اعلیٰ معیار کے علمی مقالے لکھوائے جائیں اور ان کو انعام بھی دیئے جائیں۔حضرت مصلح موعود کی شدید خواہش تھی کہ مرکز میں ایک معیاری اور جامع لائبریری بنائی جائے۔آپ کی اس خواہش کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن نے فیصلہ کیا کہ ربوہ میں ایک ایسی لائبریری کی عمارت تعمیر کی جائے جس میں پچاس ہزار کتب رکھنے کی جگہ ہو۔دوسرا طویل المیعاد منصوبہ یہ بنایا گیا کہ اگر کسی جگہ پر تحریک جدید محسوس کرے کہ یہاں پر مشن ہاؤس بننا چاہئے اور مالی وسائل موجود نہ ہوں یا کسی زبان میں قرآنِ کریم کا ترجمہ کرنے کے لئے مالی معاونت درکار ہو تو فضل عمر فاؤنڈیشن ان مقاصد کے لئے مالی معاونت کرے گی۔(۳) اس فاؤنڈیشن کے متعلق بعض لوگوں نے اس قسم کی باتیں شروع کر دیں اور لوگوں کے دلوں میں و ہم پیدا کرنے کی کوشش کی کہ شاید فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام ایک بدعت ہے جو مستحسن اور درست نہیں ہے۔اس کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۶۶ء کی مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تو یہ خیال کرنا کہ عمل کے میدان میں وہ ہمیں غلبہ اسلام اور اسلام کے استحکام کے لئے نئی نئی تدبیریں نہیں سکھائے گا۔یہ اتنی غیر معقول بات ہے کہ اگر ذرا بھی سوچ اور فکر سے کام لیا جائے۔تو طبیعت اس کو قبول کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی فرمایا تو آپ نے خدمتِ اسلام کے لئے نئی نئی تدابیر نکالیں اور انہیں اختیار کیا۔اس پر بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ آپ اسلام کی اشاعت ، خدمت اور اس کی مضبوطی کے لئے جونئی تدابیر اختیار کر رہے ہیں وہ بدعت میں شامل ہیں اور مردود ہیں۔۔66 اس کے بعد آپ نے تفصیلی دلائل بیان فرمائے کہ یہ وہم یہ اعتراض محض باطل ہے۔آپ نے