سلسلہ احمدیہ — Page 205
205 کشمیر میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔دوسرے ان تینوں اخباروں میں یہ لکھا گیا کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے (۵،۴،۳) جس سے یہ تاثر دیا جار ہا تھا کہ اسمبلی کے تمام اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت اپوزیشن اسمبلی میں موجود ہی نہیں تھی۔اور خدا جانے یہ بات صحیح تھی کہ غلط مگر بعض حکومتی اراکین نے بھی احمدیوں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے بھی اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ممکن ہے کہ اس وقت بعض حکومتی اراکین بھی اسمبلی میں موجود نہیں تھے جب کسی وجہ سے عجلت میں یہ قرارداد منظور کرائی گئی۔(۵) یہ بات بھی قابل غور تھی کہ وہ اخبارات جو کہ پاکستان کی حکومت کے اپنے اخبارات تھے یعنی امروز اور پاکستان ٹائمز، وہ بھی اس قرارداد کے متعلق صحیح حقائق پیش کرنے کی بجائے بات کو توڑ موڑ کر پیش کر رہے تھے۔حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کا ایک ہی مقصد ہوسکتا تھا اور وہ یہ کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کو ہوا دی جائے۔جماعت کی مخالف پارٹیوں کو تو گذشتہ انتخابات میں مکمل شکست کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ جماعت احمدیہ کے خلاف شورش پیدا کر کے اپنی سیاست کے مردے میں جان ڈالیں لیکن اب اس بات کے آثار واضح نظر آ رہے تھے کہ حکومت میں شامل کم از کم ایک طبقہ اب جماعت احمدیہ کے خلاف سازش میں شریک ہو رہا ہے۔اور کچھ سرکاری افسران بھی اس رو میں بہہ چکے تھے۔اور اسی طرح ایک شورش بر پا کرنے کی کوشش ہو رہی تھی جس طرح ہیں سال قبل ۱۹۵۳ء میں برپا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ہمیں پچیس سال قبل بھی ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انتخابات میں وہ جماعت کامیاب ہوئی نا اور تھی جسے جماعت احمدیہ کی حمایت حاصل تھی اور ان نام نہاد سیاسی جماعتوں نے سیاسی زندگی حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک شورش بر پا کی تھی اور برسر اقتدار پارٹی کا ایک حصہ اپنے مفادات کیلئے مولویوں کی تحریک کی پشت پناہی کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا اور وہ اخبارات جماعت کے خلاف زہرا گلنے لگے تھے جنہیں حکومت پنجاب کی مالی سر پرستی حاصل تھی۔اور اب بھی اس بات کے آثار نظر آرہے تھے کہ تاریخ دہرائی جارہی ہے۔بہت جلد پاکستان میں یہ بیان بازی شروع کر دی گئی کہ اب پاکستان میں ایسی قانون سازی