سلسلہ احمدیہ — Page 206
206 کرنی چاہئے جس کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا فیصلہ بالکل صحیح اور حقیقت کے مطابق ہے اور حکومت پاکستان کو اس کی پیروی کرنی چاہئے (۶)۔جمعیت العلماء پاکستان کی طرف سے بھی یہ قدم اُٹھانے پر صدر آزاد کشمیر کو مبارکباد دی گئی اور اس جماعت کے صدر شاہ احمد نورانی صاحب نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے۔اس کے علاوہ مختلف مساجد میں خطیبوں نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کر کے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے (۸۷)۔آزاد کشمیر کی حکومت کو یہ مبارکبادیں صرف ملک کے اندر سے نہیں موصول ہورہی تھیں بلکہ جلد ہی جماعت کے مخالف جریدوں نے یہ خبر شائع کی کہ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری نے تار کے ذریعہ مکہ معظمہ سے پاکستان کے صدر بھٹو کو آزاد کشمیر کی اسمبلی کی اس قرار داد پر مبارکباد کی تار دی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تار آزاد کشمیر کے صدر کو نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم کو بھجوائی گئی تھی۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کے مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں اور مسلمان فرقوں میں اس گمراہ فرقہ کو اپنا شر پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔(۹) جب احمدیوں نے یہ خبریں پڑھیں تو لازماً انہیں بہت تشویش ہوئی۔اور ان کی طبیعتوں میں غم و قصہ پیدا ہوا۔فطرتی بات ہے کہ ایسے موقع پر احمدی احباب اپنے امام کی طرف دیکھتے ہیں اور انہی سے راہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۴ رمئی ۱۹۷۳ء کور بوہ میں اس قرارداد پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور احباب جماعت کو بعض اصولی ہدایات سے نوازا۔اس وقت احمدیوں کے دلوں میں جس قسم کے جذبات پیدا ہورہے تھے اس کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا: غرض جس احمدی دوست نے بھی یہ خبر پڑھی اس کی طبیعت میں شدید غم وغصہ پیدا ہوا۔چنانچہ دوستوں نے مجھے فون کیسے، میرے پاس آدمی بھیجوائے ، خطوط آئے ، تاریں آئیں۔احباب نے خطوط اور تاروں وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر خدمت کے لیے پیش کیا کہ اگر قربانی کی ضرورت ہو تو ہم قربانی دینے کے لیے تیار