سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 204 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 204

204 کشمیر اسمبلی میں بھی جو قرار داد پیش کی گئی اس کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے قانونی طور پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا بھی ان کا آخری مقصد نہیں تھا بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کو ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔مثلاً یہ تجویز کیا گیا تھا کہ احمدیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور انہیں آبادی کے تناسب سے مختلف شعبوں میں ملازمتیں دی جائیں۔حالانکہ کشمیر یا پاکستان میں ایسا کوئی قانون تھا ہی نہیں کہ کسی مذہبی گروہ کو خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں ہو ، آبادی کے تناسب سے ملازمتیں دی جائیں گی۔یہ شوشہ چھوڑنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ احمدی میرٹ کی بنیاد پر اپنا حق حاصل نہ کر سکیں۔اور ان پر ایسا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ارتداد کا راستہ اختیار کریں۔گو کہ منظوری کے وقت یہ حصہ حذف کر دیا گیا لیکن جو قرار داد میجر ایوب صاحب کی طرف سے پیش کی گئی اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ ریاست میں احمدیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔تو اصل ارادے یہی تھے کہ احمدیوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم کر دیا جائے ورنہ ریاست میں ہندو، عیسائی اور یہودی تو داخل ہو سکتے تھے لیکن احمدی مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگانے کی تجویز کی جارہی تھی۔گویا یہ ان خدمات کا صلہ دیا جارہا تھا جو احمدیوں نے اہلِ کشمیر کی مدد کے لئے سر انجام دی تھیں۔اس قرارداد میں ایک اہم سفارش یہ تھی کہ ریاست میں احمدیوں کی تبلیغ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔یہ بات قابل مذمت ہونے کے ساتھ قابل فہم بھی تھی کیونکہ مخالفین جماعت دلائل کے میدان میں احمدیوں کا مقابلہ کرنے سے کتراتے ہیں اور ان کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ انہیں تو ہر قسم کا زہر اگلنے کی اجازت ہو بلکہ اس غرض کے لئے ہر قسم کی سہولت مہیا کی جائے مگر احمد یوں پر پابندی ہونی چاہئے کہ وہ اس کا جواب نہ دے سکیں۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کشمیر میں عیسائیت یا دوسرے مذاہب کی تبلیغ پر کوئی پابندی لگانے کی سفارش نہیں کی گئی تھی صرف احمدیت کی تبلیغ پر پابندی لگانے پر زور تھا۔احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی لگانے پر اصرار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ گروہ احمدیوں کے دلائل سے خائف رہتا ہے۔پاکستان کے اکثر بڑے اخباروں میں یہ خبر ایک خاص معنی خیز انداز میں شائع کی جارہی تھی۔ایک تو جب نوائے وقت ، امروز اور پاکستان ٹائمز میں یہ خبر شائع کی گئی تو یہ شائع نہیں کیا کہ ابھی اس کے مطابق قانون سازی نہیں کی گئی اور یہ قرار داد ایک سفارش کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ یہ لکھا گیا کہ