سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 199 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 199

199 بھی پریشانیوں پر منتج ہوا۔اس کی تفصیل میں جانے کا نہ یہ وقت ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔مارشل لاء کے زمانہ میں بھی کچھ قوانین تو ہوتے ہیں جن کے تحت حکومت کی جاتی ہے۔تاہم ان قوانین کو قوم کا دستور نہ کہا جاتا ہے نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ حقیقت ایسا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے قوم گویا دستور کے میدان میں پچھلے پچھپیں سال بھٹکتی رہی ہے چنانچہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ قوم کو ایک دستورمل گیا۔ہم خوش ہیں اور ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہیں کہ ہماری اس سرزمین کو جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے منتخب فرمایا ہے اس میں بسنے والی اس عظیم قوم کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ اپنے لئے ایک دستور بنائے۔‘(۲) ۱۹۷۳ء کے آئین میں جو حلف نامے تجویز کئے گئے تھے ان میں عقائد کا تذکرہ اور ختم نبوت کا حلف مولویوں اور مولوی ذہنیت رکھنے والوں کو خوش کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔اور پیپلز پارٹی کے قائدین بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے ملک کو ایک اسلامی آئین دیا ہے۔چنانچہ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر افتخار تاری صاحب نے آئین کی منظوری کے بعد بڑے فخر سے یہ بیان دیا۔نیا آئین اسلامی ہے کہ اس میں پارلیمنٹ کی بالا دستی کے باوجود اسلامی مشاورتی کونسل کو سپریم حیثیت دی گئی ہے۔ہمارے مخالفین بالعموم اور جماعت اسلامی والے بالخصوص پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگاتے رہے کہ یہ مرزائی فرقہ کے قائدین کی ہدایات اور اشاروں پر چلتی ہے اور موجودہ حکومت کو ربوہ سے حکم آتے ہیں۔اگر یہ الزام درست ہوتا تو آئین میں اسلامی قوانین کو کیسے اپنایا جا سکتا تھا۔نیز اس آئین میں محمد مصطفے ﷺ کے نبی آخر الزمان کو بنیاد بنا کر ان شکوک و شبہات کو قطعی طور پر دور کر دیا گیا جن کی آڑ میں پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بنایا جاتا تھا۔“ (روز نامہ امروز ۲۱ را پریل ۱۹۷۳ ص۲) چونکہ پیپلز پارٹی اور خود بھٹو صاحب پر مخالفین کی جانب سے مذہب سے بیزار ہونے کا الزام تھا، اس لئے یہ بھی ممکن ہے اس الزام کا رد کرنے کے لئے اور مخالفین کو خوش کرنے اور ان سے ممکنہ طور پر پیش آنے والے خطرات کا سد باب کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے اس قدم پر رضا مندی ظاہر کی ہو۔لیکن تعصب اور تنگ نظری کے دوزخ میں جتنا مرضی ڈالو اس میں سے ھل من مزید کی صدائیں بلند