سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 200 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 200

200 ہوتی رہتی ہیں۔ایک کے بعد دوسرا نا معقول مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے۔اور اگر قوم کی تیرہ بختی سے حکومت ان کے آگے جھکنے کا راستہ اپنا لے تو پھر یہ عفریت معاشرے کی تمام عمدہ قدروں کو نگل جاتا ہے۔بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین کی یہ بھول تھی کہ وہ اس طرح تنگ نظر گروہ کو خوش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یا جیسا کہ ہم بعد میں اس امر کا جائزہ لیں گے اگر یہ سب کچھ کسی بیرونی ہاتھ کو خوش کرنے کے لئے کیا جا رہا تھا تو یہ خیال محض خوش فہمی تھی کہ یہ بیرونی ہاتھ اسی پر اکتفا کرے گا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔آئین کو بنے ابھی ایک ماہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ نئے مطالبے شروع ہو گئے۔یہ مطالبات اسلام کے نام پر کئے جارہے تھے لیکن ان میں سے اکثر اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس تھے۔ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں تا کہ اندازہ ہو سکے کہ اس گروہ کے خیالات اسلام اور اسلامی ممالک کے لئے کتنا بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اور ان میں معقولیت نام کی کسی چیز کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا۔ماہنامہ الحق کے اپریل مئی کے شمارے میں آئین کے حوالے سے ان مطالبات کی فہرست شائع ہوئی جو اسمبلی کے اندر اور باہر نام نہاد مذہبی جماعتوں کی طرف سے کئے جارہے تھے۔اس رسالے میں قومی اسمبلی میں مسودہ دستور کی اسلامی ترمیمات کا کیا حشر ہوا“ کے نام سے ایک طویل مضمون شائع ہوا۔اس میں مضمون نگار نے یہ اعتراضات کئے کہ اس آئین کو صحیح اسلامی رنگ دینے کے لئے جو تبدیلیاں ضروری تھیں وہ منظور نہیں کی گئیں۔یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: لیکن ہماری نگاہیں اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے مغربی تہذیب سے مستعار بنیادی حقوق کے تصورات پر ٹھہرتی ہیں۔اور مغربی تہذیب سے مرعوب ہوکر بنیادی حقوق کے نام سے آئین کی رہی سہی اسلامیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔مثلاً موجودہ بنیادی حقوق میں جنس ( مرد، عورت)، اور مذہب کی تمیز کئے بغیر ہر قسم کی ملازمتوں میں مساوات یہاں تک کہ وہ عدالت کا چیف جسٹس بھی بن سکے کلیدی مناسب بھی سنبھال سکے، عام مجالس اور مقامات میں داخلہ اور مردوزن کا اختلاط، تقریر وتحریر کی آزادی کے نام پر اخلاقی اور مذہبی اقدار سے بھی آزادی ہر شخص جو چاہے مذہب اختیار کرے، مسلم اور غیر مسلم (اہل ذمہ) مردوزن سب کو تمام شعبہ ہائے حیات میں ایک لاٹھی سے ہانکنا، اس طرح کی بہت سی مثالیں اسلام