سلسلہ احمدیہ — Page 99
99 اپنی دعاؤں میں یا درکھتا ہوں اور آئندہ بھی ہمیشہ یادرکھوں گا۔تقریر کے بعد آپ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے ہمراہ اُس جگہ تشریف لے گئے جہاں چیف صاحبان موجود تھے وہاں آپ نے چیف صاحبان سے مصافحہ کیا اور ان کے عصا برداروں سے بھی مصافحہ کیا۔اس کے بعد آپ نئی مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔جہاں پر افتتاحی تختی نصب کی جانی تھی وہاں پر سیمنٹ لگانے کا کام ہور ہا تھا۔بعض احباب سیمنٹ لگانے والے کو جلد کام مکمل کرنے کا کہہ رہے تھے۔حضور نے فرمایا کہ تسلی سے کام ختم کر لیں اور اتنی دیر حضور وہاں پر کھڑے دعائیں کرتے رہے۔اس مسجد کی افتتاحی تختی نصب فرمانے کے بعد آپ نے اجتمائی دعا کروائی اور مشن ہاؤس کی عمارت کا سنگ بنیا درکھا۔اس کے بعد آپ نے اسی مقام پر لجنہ کے ریجنل سینٹر کی بنیاد رکھی۔پھر نئی مسجد میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کی گئیں۔اور پھر مردوں نے حضور سے اور عورتوں نے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔پھر حضور اس مکان پر تشریف لے گئے جہاں حضور کے لئے انتظام کیا گیا تھا اور فرمایا I am moved like anything اور مکرم عبد الوہاب صاحب کے حسنِ انتظام اور جماعت کے نظم وضبط پر اظہارِخوشنودی فرمایا۔(۲۸) سہ پہر کوحضور واپس کماسی تشریف لے آئے۔کماسی میں حضور کا قیام سٹی ہوٹل میں تھا۔اسی شام کو حضور نے اشانٹی ریجن کی جماعت کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت فرمائی۔اس تقریب میں احباب جماعت کے علاوہ پیراماؤنٹ چیف صاحبان ، چیئر مین کماسی سٹی کونسل ہمبران پارلیمنٹ، یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان اور دیگر معززین شہر بھی شریک ہوئے۔مختلف احباب نے حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے علاوہ مختلف موضوعات پر حضور سے گفتگو بھی کی۔باوجود اس کے کہ حضور سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے ہر ایک سے حسب حال گفتگو فرماتے اور کبھی ہلکے سے مزاح سے اپنے مخاطب کو مسکرانے پر مجبور کر دیتے۔یونیورسٹی کے چیئر مین صاحب A۔A۔Kyere Mantang نے حضور سے عرض کی کہ جماعت احمد یہ اہلِ غانا کی بہت خدمت کر رہی ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا: 'By nature, heart and religion we are servants' یعنی ہم فطرتی تقلبی اور مذہبی طور پر خادم واقعہ ہوئے ہیں۔