سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 98 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 98

98 منسوخ ہو چکا تھا مگر پھر اس پروگرام کو برقرار رکھا گیا۔کچھ خدام نے شہر سے دس میل باہر آ کر حضور کا استقبال کیا۔جب قافلہ شہر میں داخل ہوا تو سڑکوں کے دونوں طرف بہت سے احمدی اپنے امام کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔یہاں پر حضور کی رہائش کا انتظام ایک احمدی دوست کے و تعمیر شدہ مکان میں تھا۔حضور اس مکان میں تشریف لے گئے۔حضور نے فرمایا کہ میں احباب اور بہنوں سے مل کر بہت خوش ہوں۔فرمایا کہ یہ ایک روحانی تجربہ تھا۔آج تو میں بھی ضبط نہ کر سکا۔یہاں مشروبات پینے کے بعد حضور اس شہر میں جماعت کی نئی مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لے گئے۔مقامی پیرا ماؤنٹ چیف صاحب اور دیگر چیف صاحبان بھی اپنی روایتی چھتریوں کے نیچے کھڑے حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے۔اور ان کے علاوہ ہزاروں احمدی اس با برکت تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔جب حضور کار سے اتر کر سٹیج کی طرف آئے تو فضا اسلامی نعروں سے گونج رہی تھی۔سٹیج پر پہنچ کر حضور نے سب حاضرین کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کا تحفہ دیا۔حضور کے تشریف رکھنے کے بعد مکرم مولا نا بشارت احمد بشیر صاحب نے تلاوتِ قرآن کریم کی اور پھر چند خدام نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی منظوم کلام پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد مکرم عبدالوہاب بن آدم صاحب نے حضور کی خدمت میں استقبالیہ ایڈریس پیش کیا۔جو تحریری صورت میں بھی حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا۔حضور کے خطاب سے قبل علاقے کے پیراماؤنٹ چیف صاحب نے حضور کو اپنے علاقے میں خوش آمدید کہا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں آپ کے بے ساختہ اظہارِ محبت سے بہت متاثر ہوا ہوں اور میری توجہ آج سے اسی سال پہلے کی طرف مبذول ہوگئی۔جب ایک تنہا آواز اٹھی تھی۔تمام دنیا اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے جمع ہو گئی لیکن وہ آواز خاموش نہ کی جاسکی کیونکہ اللہ تعالیٰ اس آواز کی پشت پر مدد کے لئے کھڑا تھا۔آج میں نے محسوس کیا کہ آج کی ہر آواز اس آواز کی صدائے بازگشت ہے جس نے بنی نوع انسان کو اپنے خالق کی طرف بلایا تھا۔حضور نے فرمایا کہ حمد عربی ﷺ نے اپنے آپ کو انسانوں میں سے ایک انسان قرار دے کر انسانیت کا مقام کتنا بلند کر دیا ہے۔میرا دل جذبات سے لبریز ہے اور میری روح آپ کے لئے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہے۔میری دعا ہے کہ آپ خود اپنے مقام کو پہچانے کی توفیق پائیں اور کسی انسان کے سامنے جھکنے کی بجائے ہمیشہ خدائے واحد کے سامنے جھکتے رہیں۔میں ہمیشہ آپ کو