سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 100 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 100

100 کئی پیرا ماؤنٹ چیف اور چیف صاحبان نے حضور سے ملاقات کی۔ایک پیرا ماؤنٹ چیف اور ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمارے علاقے میں ایک ہسپتال کھولا جائے جس میں ماہر ڈاکٹر موجود ہوں۔حضور نے فرمایا کہ میں پاکستان سے بعض ایسے ڈاکٹروں کو جو ماہر ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر رہ کر خدمت کر چکے ہیں کہوں گا کہ اب غانا میں آ کر خدمت کریں اور فرمایا کہ ان کی درخواست پر غور کیا جائے گا اور امیر صاحب غانا مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب کو فرمایا کہ ڈاکٹر ہم بھجوائیں گے باقی انتظامات کے متعلق غانا کی جماعت کی ذمہ داری ہے۔حضور استقبالیہ میں ساڑھے سات بجے تک تشریف فرما رہے۔اس کے بعد حضور مع حضرت بیگم صاحبہ مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔نماز مغرب وعشاء احمد یہ سکول کماسی کے وسیع احاطے میں ادا کی گئیں۔ہزاروں احمدیوں نے اپنے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی۔نماز کے بعد وا کی جماعت کے اڑھائی سو دوستوں کے وفد نے حضور سے شرف ملاقات حاصل کیا۔یہ جگہ کماسی سے بھی پونے تین سو میل کے فاصلے پر واقعہ ہے اور یہاں پر ہزاروں احباب کی مخلص جماعت قائم ہے۔جب حضور ان سے ملاقات کے لئے ہال میں داخل ہوئے تو وا کے وفد نے وہ قصیدہ پڑھنا شروع کیا جو ہجرت کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی آمد پر مدینہ کی لڑکیوں نے پڑھا تھا۔یہ منظر اتنا روح پرور تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پڑھنے والوں کی آواز بھی گلو گیر ہو گئی۔حضور نے خطاب شروع کرنے سے قبل دریافت فرمایا کہ آپ میں سے عربی کون جانتا ہے تو نصف کے قریب دوست کھڑے ہو گئے۔پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ میں سے انگریزی کون کون جانتا ہے تو اس پر صرف دس احباب کھڑے ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ان احباب سے عربی زبان میں خطاب فرمایا۔معلم مومن صاحب نے جو کہ وا کے ابتدائی احمد یوں میں سے تھے اس خطاب کا ترجمہ کیا۔اس کے بعد ملاقات شروع ہوئی تو پہلے دوست جو ملاقات کے لئے آئے وہ بے اختیار حضور سے لپٹ گئے۔حضور نے ان سے معانقہ فرمایا۔اس کے بعد تمام احباب نے حضور سے مصافحہ اور معانقہ کا شرف حاصل کیا۔وا کی مستورات نے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔(۲۹)