سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 686 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 686

686 تک کی ہے، کچھ حصہ رہ گیا ہے۔امریکہ والوں نے شور مچایا ہوا تھا اور کہتے تھے اسکو مکمل کر کے ہمیں دیں۔بڑی عجیب کتاب ہے۔وہ داستانِ حیات ، وہ فدائیت کے واقعات۔ایک ایک لحظہ خدا کی یاد میں اور محمد ﷺ کے عشق میں جس نے گزارا ہے۔اس کی زندگی کے حالات امریکنوں پر بھی اثر انداز ہیں، اس گندے ماحول میں پرورش یافتہ لوگوں پر بھی۔پس یہ ان کا مطالبہ ہے۔بچوں کے متعلق میں نے خطبہ میں اعلان کیا تھا کہ میرا اندازہ ہے کہ ہمیں ایک ہزار کتاب امریکہ اور یورپ کے بچوں کے لئے تیار کرنی پڑے گی۔انکی اپنی اپنی عمر کے لحاظ سے۔چھوٹی عمر پھر بڑی عمر پھر بڑی عمر۔تا کہ ان کو پتہ تو لگے اسلام کہتا کیا ہے۔اسلام کی تعلیم کیا ہے۔انکو پتہ تو لگے خدا تعالیٰ کی ہستی کتنی عظیم اور جلالت شان والی ہے اور انکو پتہ تو لگے جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کی چودہ سو سال سے حضرت ﷺ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک۔انہوں نے پھر اس معرفت کے بعد کس طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی ہر چیز قربان کر دی۔“ (۱) الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۱ ص ۴ (۲) الفضل ۲۳ ستمبر ۱۹۷۰ ء ص ۵ ہالینڈ ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آغاز پر ہالینڈ کے مشن کے انچارج مکرم عبد الحکیم اکمل صاحب تھے۔اس دور میں مشن ہاؤس میں غیر مسلم سکالرز کے لیکچر بار بار کروائے گئے۔جس کی وجہ سے آنے والے احباب کو جماعت سے تعارف حاصل ہوتا اور جماعت کے مبلغ ان کو تبلیغ بھی کرتے (۱)۔اس کے علاوہ مکرم عبد الحکیم صاحب نے متعدد لیکچر دیئے۔ان میں سے بعض لیکچر گر جاؤں ،سکولوں اور سوسائٹیوں میں دیئے گئے تھے۔اور متعدد افراد وفد کی صورت میں مشن ہاؤس آتے اور ان کو تبلیغ کی جاتی۔جب غیروں سے مقابلہ ہوتا تو غیر احمدی مسلمان بھی احمدی مبلغ سے رابطہ کرنا پسند کرتے۔ایک بار بہائیوں نے بین المذاہب کا نفرنس منعقد کی۔ایک ترک امام صاحب کو بھی مدعو کیا گیا لیکن انہوں نے موقع کی نزاکت کے اعتبار سے جماعت کے مبلغ کو فون کیا کہ آپ اس کا نفرنس میں ضرور ہوں ورنہ اگر اسلام