سلسلہ احمدیہ — Page 57
57 رضا کے حصول میں ہمارے لئے مد ثابت ہوتی ہیں۔نماز جمعہ کے بعد حضور نے احباب جماعت کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔اسی روز حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا جس میں ہالینڈ کے تقریباً سارے بڑے اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوئے۔اور ریڈیو ہیگ کی ایک ٹیم نے بھی اس میں شرکت کی اور حضور کا انٹرو یولیا جواسی روزنشر کیا گیا۔۱۵ / جولائی کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے اعزاز میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں احباب جماعت کے علاوہ شہر کے دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔ان میں شہر کی علمی شخصیات ، پروفیسر صاحبان ، یورپ میں صوفی تحریک کے لیڈر مشرف خان صاحب، ہالینڈ میں بدھوں کے لیڈر مسٹر بلوس ما ، ہالینڈ میں رہنے والے دس ہزار ترکوں کے امام مسٹرا کتو دان، رجسٹرار عالمی عدالت انصاف اور کویت اور انڈونیشیا کے سفارت کاروں کے علاوہ متعدد نمائندگان پریس اور ریڈیو نے شرکت کی۔(۱۲، ۱۳) ۱۶ جولائی کو حضرت خلیفہ امیج الثالث ہیگ کا دورہ مکمل کر کے واپس جرمنی پہنچے۔اب آپ کا قیام ہمبرگ میں تھا۔جرمن اور پاکستانی احمدی ہوائی اڈے پر اپنے امام کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ہمبرگ میں جماعت کے مبلغ مکرم عبد اللطیف صاحب نے حضور کا استقبال کیا۔اور جب حضور باہر تشریف لائے تو احباب جماعت نے اللہ اکبر، اسلام زندہ باد اور حضرت خلیفہ اسیح زندہ باد کے نعرے لگائے۔شام کو ہمبرگ جماعت کی طرف سے حضور کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس میں احمدی احباب کے علاوہ بہت سے غیر احمدی حضرات نے بھی شرکت کی۔پہلے مکرم عبداللطیف صاحب نے جماعت احمدیہ اور حضور کا تعارف کرایا اور پھر جرمن احمدی مکرم عبد الغفور صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا۔استقبالیہ کے بعد انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔کئی جرمن احمدی دور دراز کا سفر کر کے حضور کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔مقامی ٹی وی نے اس استقبالیہ پر ایک رپورٹ نشر کی اور اس کے علاوہ ریڈیو پر بھی حضور کی آمد کی خبر نشر کی گئی۔۷ار جولائی کو صوبائی حکومت کی طرف سے حضور کے اعزاز میں دعوتِ استقبالیہ دی گئی۔اس میں حکومت کے نمائندوں کے علاوہ دیگر معززین شہر نے بھی شرکت کی۔اسی شام کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اٹلانٹک ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس میں شرکت فرمائی۔اس میں ملک کے بڑے اخبارات کے نمائندوں مختلف خبر رساں ایجنسیوں کے نمائندوں کے علاوہ کچھ ریڈیو سٹیشنوں کے نامہ نگاروں نے بھی شرکت