سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 56 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 56

56 بھی شامل تھے اور پریس شعبہ کے افسر اعلیٰ نے حضور کا استقبال کیا۔یہاں پر ایک انٹر ویو دینے کے بعد حضور مسجد محمود تشریف لے گئے۔رات کو حضور نے ایک استقبالیہ میں شرکت فرمائی اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی۔حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اسلام صلح و آشتی کا مذہب ہے۔وہ صلح کو قائم کرتا ہے اور امن کی فضا پیدا کرتا ہے۔استقبالیہ میں دیگر معززین کے علاوہ سوئٹزر لینڈ کی مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور سات ممالک کے سفارتی نمائندے بھی شامل ہوئے۔یہاں کے ریڈیو اور ٹی وی پر حضور کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ٹی وی کے نمائندے نے سوال کیا کہ آپ دنیا پر کس طرح غلبہ حاصل کریں گے؟ اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جواب دیا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس پر اس نے بے ساختہ کہا کہ میں اس جواب کو اپنی رپورٹ میں ضرور شامل کروں گا۔حضور زیورک سے انٹر لائن اور برن تشریف لے گئے اور وہاں پر ایک رات قیام کے بعد واپس زیورک تشریف لے آئے (۱۰۹)۔زیورک میں ہی ایک روز صبح کے تین بجے حضور کی زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام جاری ہوا مبارک و مبارک و کل امر يجعل فيه(۱۱) اس دورہ میں حضور کو رات گئے تک کام کرنا پڑتا تھا اور صبح سب سے پہلے بیدار ہو کر کام شروع کر دیتے۔اتنی مصروفیات کے باوجود حضور ہر وقت شگفتہ مزاج رہتے تھے۔مکرم چوہدری محمد علی صاحب جو اس دورہ کے دوران بطور پرائیویٹ سیکریٹری حضور کے ہمراہ تھے بیان کرتے ہیں کہ سوئٹزر لینڈ کے دورہ کے دوران حضور رات کے بارہ بجے تک مختلف احباب کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے تھے۔ہماری خواہش تھی کہ حضور آرام فرما ئیں اور نیند پوری کر لیں۔اتنے میں حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کا پیغام آیا کہ حضور سے عرض کریں کہ بارہ بج گئے ہیں۔چوہدری محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ حضور بارہ بج گئے ہیں۔حضور نے برجستہ فرمایا:۔” آپ کے بارہ بجے ہوں گے ہمارے تو نہیں بجے۔“ ۱۴ جولائی کو حضور زیورک سے ہالینڈ کے شہر بیگ تشریف لے گئے۔اسی روز حضور نے ہیگ کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھائی اور انگریزی میں خطبہ ارشاد فرمایا۔اس خطبہ میں حضور نے اس مضمون پر روشنی ڈالی کہ سورۃ فاتحہ میں جو صفات الہی بیان ہوئی ہیں وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی