سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 453 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 453

453 رکھنے والا کہا گیا تھا۔مخالفین جماعت کی طرف سے بھی قومی اسمبلی کی تحریف شدہ کا رروائی شائع کی گئی ہے۔یہ شائع شدہ کارروائی بہت مختصر ہے۔چونکہ اکثر حصہ کو مولوی حضرات شائع کرنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتے تھے۔مگر جو حصہ شائع بھی کیا گیا ہے اس میں جگہ جگہ تحریف کی گئی ہے۔مندرجہ بالا حصہ شائع کرتے ہوئے ان مولوی حضرات نے اپنی طرف سے یہ ہوشیاری کی ہے کہ آئینہ کمالات اسلام کے حوالے کا وہ حصہ نہیں شائع کیا جو حضور نے اس وقت پڑھا تھا۔لیکن یہ جملہ اس تحریف شدہ اشاعت میں بھی اس طرح لکھا گیا ہے میرے عقیدے کے مطابق اس لحاظ سے کوئی غیر احمدی ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا نہیں۔“ تاریخی قومی دستاویز ۱۹۷۴ ء، ترتیب و تدوین اللہ وسایا ، ناشر عالمی مجلس ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان۔جنوری ۱۹۹۷ ء ص ۱۵۳) اگر چہ جیسا کہ اصل سے موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جملہ میں بھی تحریف کی گئی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس معیار کی جو تعریف بیان کی گئی تھی وہ درج نہیں کی لیکن پھر بھی یہ تحریف شدہ جملہ اس بات کو بالکل واضح کر دیتا ہے کہ اس جملہ میں غیر احمدی مسلمانوں کوملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا بیان کیا گیا تھا، غیر مسلم ہر گز نہیں کہا گیا تھا۔اور اللہ وسایا صاحب نے ایک اور کتاب تحریک ختم نبوت بھی لکھی ہے۔اس کے حصہ سوئم میں اٹارنی جنرل صاحب یحییٰ بختیار صاحب کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا گیا ہے۔اس میں بیچی بختیار صاحب خود کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے حقیقی مسلمان کی لمبی تعریف بیان کی جو کہ گیارہ بارہ صفحات کی تھی اور پھر یہ بات کہی کہ کوئی غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا۔اس انٹرویو میں بھی بیچی بختیار صاحب نے اپنے نام نہاد کارناموں کا بہت ذکر کیا ہے اور ان کے انٹرویو میں بہت سی غلط بیانیاں بھی ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ تو یہ کہہ رہے تھے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حقیقی مسلمان کی نہایت طویل تعریف بیان کی تھی۔اس کا ذکر تو اللہ وسایا صاحب کی شائع کی گئی کارروائی میں موجود نہیں۔اللہ وسایا صاحب نے تو جو کارروائی شائع کی ہے اس میں تو اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔خود انہی