سلسلہ احمدیہ — Page 454
454 کی ایک اور کتاب یہ ثابت کر رہی ہے کہ اللہ وسایا صاحب نے تحریف شدہ کارروائی شائع کی تھی۔اور پھر حضور کا جملہ صرف یہ تھا کہ میرے علم میں کوئی غیر احمدی اس معیار کا نہیں ہے۔اور کیا معیار پیش نظر تھا اس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔(تحریک ختم نبوت ، جلد سوئم ، مصنفہ اللہ وسایا، ناشر عالمی مجلس ختم نبوت ملتان ص ۸۷۴) ایک اور امر قابل ذکر ہے کہ بیٹی بختیار صاحب کے انٹرویو میں بھی حقیقی مسلمان کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، مسلمان کے نہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ پچیس سال سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اہم ممبران کا رروائی کے اس حصہ کے متعلق کیا پر مغز نکات بیان فرما رہے ہیں۔ہم ذکر کر چکے ہیں کہ دوسری طرف کا نقطہ نظر معلوم کرنے کے لئے ہم نے بعض ایسی اہم شخصیات کا انٹرویو بھی کیا جو اس موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے بھی کارروائی کے اس مرحلہ کے متعلق کچھ نہ کچھ بیان فرمایا۔یہ اس لئے ضروری تھا کہ ہم ان معزز اراکین اسمبلی سے براہ راست مل کر اس کے متعلق ان کی رائے ریکارڈ کر لیں تا کہ کوئی واسطہ بیچ میں نہ ہو اور اس بات کو چونکہ بہت شہرت دی گئی ہے اس لئے کسی غلطی کا امکان ختم ہو جائے۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ اس وقت قومی اسمبلی میں موجود تھے۔ڈاکٹر صاحب پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں۔اس وقت کا بینہ کے ایک اہم رکن تھے۔بعد میں وہ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے۔انہوں نے ہم سے انٹرویو کے دوران جو بیان کیا وہ ہم لفظ بلفظ نقل کر دیتے ہیں۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب فرماتے ہیں: مبشر حسن صاحب: "۔۔۔لیکن وہ جو ریزولیشن تھا ایک اور بات جو ہے وہ مجھے اس کا بڑا قفلق ہے۔اور اس ریزولیشن کے پاس ہونے میں اس بات نے بہت کردار ادا کیا۔وہ یہ ہے کہ آپ کو علم ہے کہ مسٹر بھٹو نے کہا تھا کہ میں ایسا Solution دوں گا اور خاموش ہو جاؤ۔انہوں نے پارلیمنٹ کی ایک House meeting in private sitting ، پرائیویٹ سٹنگ private sitting اسے کہتے ہیں جہاں جو پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہوا سے بھی بلایا جا سکے۔اور وہاں پر ناصر احمد صاحب اور طاہر احمد صاحب گئے۔بیٹی بختیار صاحب نے ان سے سوالات کئے۔ایک سوال کے جواب میں بیٹی بختیار نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ جو احمدی نہیں ہیں مسلمان ، انہیں مسلمان سمجھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔“