سلسلہ احمدیہ — Page 438
438 ” اب رہی یہ بحث کہ صوفیاء کرام نے نبوت کے معنی میں یہ توسیع کیوں فرمائی کہ اس کا اطلاق اولیاء پر بھی ہو سکے۔تو یہ ایک لطیف بحث ہے۔ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری صوفیاء کے اس تصور پر عائد ہوتی ہے جو انہوں نے نبوت سے متعلق قائم کیا۔انہوں نے یہ سمجھا کہ کمالات نبوت ایسی چیز ہے جو سعی اور کوشش سے حاصل ہوسکتی ہے۔زہد وریاضت اور اللہ کی خوشنودی کے حصول میں جدو جہد انسان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس کا آئینہ دل اتنا مجلا اور شفاف ہو جائے کہ غیب کے انوار و تجلیات کی جھلک اس پر منعکس ہو۔ان کا دل مہبط وحی قرار پائے۔اور اس کے کان طرح طرح کی آوازیں سنیں۔یعنی مقام نبوت یا محدثیت اور بالفعل نبوت کا حصول یہ دو مختلف چیزیں نہیں۔مقام نبوت سے مراد عمل وفکر کی وہ صلاحیتیں ہیں جو بشریت کی معراج ہیں۔ان تک رسائی کے دروازے امت محمد یہ پر بلا شبہ کھلے ہیں۔شوق عبودیت اور ذوق عبادت شرط ہے۔جو بات ختم نبوت کی تصریحات کے بعد ہماری دسترس سے باہر ہے۔وہ نبوت کا حصول ہے کہ اس کا تعلق یکسر اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے ہے۔یعنی یہ اس پر موقوف ہیکہ اس کی نگاہِ کرم اس عہدہ جلیلہ کے لئے اپنے کسی بندے کو چن لے۔جس میں نبوت کی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہوں اور جو مقامِ نبوت پر پہلے سے فائز ہو۔اب چونکہ نامزدگی کا یہ سلسلہ بند ہے۔اس لئے کوئی شخص ان معنوں میں تو نبی ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس کا ماننا دوسروں کے لئے ضروری ہو اور اس کے الہامات دوسروں پر شرعاً حجت ہوں۔البتہ مقامِ نبوت یا نبوت کی صلاحیتیں اب بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔نبوت کے اس تصور سے چونکہ نبوت مصطلحہ اور ولایت کے اس مقام میں بجز نامزدگی کے اور کوئی بنیادی فرق نہیں رہتا۔اس لئے وہ حق بجانب ہیں کہ اس کو بھی ایک طرح کی نبوت قرار دیں کہ دونوں فطرت و حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔“ (مرزائیت نئے زاویوں سے مصنفہ محمد حنیف ندوی ص ۷۵-۷۶) اب ان چند مثالوں سے ظاہر ہے کہ پہلی صدی سے لے کر موجودہ دور تک سلف صالحین اور بعد کے علماء کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آنحضرت ے کی غلامی میں امتی نبی آنے کا دروازہ بند نہیں ہوا اور خاتم النبيين كے الفاظ کا قطعاً یہ مطلب